ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست، سی بی آئی اور حکومت کو نوٹس کی اجرائی
حیدرآباد: عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹیز میں فیلو شپس کی منظوری میں مبینہ دھاندلیوں کی شکایت کرتے ہوئے کریم نگر سے تعلق رکھنے والے پی ایچ ڈی اسکالر نے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی۔ انہوں نے دونوں یونیورسٹیز میں فیلو شپ کی منظوری میں قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سی بی آئی تحقیقات کی اپیل کی۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس سلسلہ میں بارہا کی گئی نمائندگیوں پر کوئی سنوائی نہیں ہوئی ہے۔ کے سرینواس نامی طالب علم کی مفاد عامہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ، سی بی آئی ، عثمانیہ یونیورسٹی ، کاکتیہ یونیورسٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے موقف کی وضاحت طلب کی ہے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کے لئے ترتیب دیئے گئے ریسرچ پروگراموں میں بے قاعدگیاں کی جارہی ہیں۔ درخواست گزار نے اس سلسلہ میں چند ماہ قبل سی بی آئی سے شکایت کی تھی۔ یو جی سی کی گائیڈ لائینس کے مطابق پی ایچ ڈی اور ایم فل میں داخلہ لینے والے طلبہ کو فیلوشپ دی جانی چاہئے۔ درخواست گزار نے بتایا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے او بی سی طلبہ کیلئے نیشنل فیلوشپ کی منظوری کے سلسلہ میں گائیڈ لائینس جاری کئے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ برائے اقلیتی طلبہ راجیو گاندھی نیشنل فیلو شپ برائے ایس سی ، ایس ٹی طلبہ ایسے امیدواروں کو دی جاتی ہے جنہوں نے پوسٹ گریجویٹ کی تکمیل کرلی اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کورسس میں داخلہ کے خواہاں ہیں۔