عثمانیہ یونیورسٹی میں کورونا سے ایک ملازم کی موت کے بعد سنسنی

   

Ferty9 Clinic

کالج آف ٹکنالوجی بند کرنے ملازمین کا مطالبہ،ڈیوٹی پر حاضری سے گریز
حیدرآباد ۔11۔ جون (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی میں کورونا کے قہر نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کالج آف ٹکنالوجی کا ایک ملازم کورونا کے سبب فوت ہوگیا جس کے بعد یونیورسٹی کے تمام اداروں میں یہ اطلاع تشویش کا باعث بن گئی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی ایمپلائیز یونین نے یونیورسٹی کے رجسٹرار کو یادداشت پیش کرتے ہوئے کالج کو 14 دنوں تک بند کرنے اور عمارت کے مکمل سینیٹائزیشن کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے یونیورسٹی کیمپس کو کنٹینمنٹ زون قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔ یونیورسٹی حکام نے تین دن تک کالج بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ملازمین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کورونا کے کیسیس میں اضافہ کے پیش نظر یونیورسٹی حکام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے ۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے علاوہ طلبہ کی زندگی کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہئے ۔ کالج آف ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر شام سندر نے بتایا کہ 7 جون کو ایک ملازم کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے گاندھی ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا جہاں وہ کورونا پازیٹیو پایا گیا۔ استھما اور دیگر امراض کا شکار ہونے کے باعث موت ہوقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ عمارت کے سینیٹائزیشن کا کام کریں۔ کالج کے انٹرنس پر تھرمل اسکریننگ مشن نصب کی گئی ہے ۔ رجسٹرار عثمانیہ یونیورسٹی ڈاکٹر گوپال ریڈی نے بتایا کہ تمام کالجس کے پرنسپلس سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اسٹاف کو کالج آنے کیلئے دباؤ نہ ڈالیں۔