بغداد۔7جون (سیاست ڈاٹ کام)عراق میں پانچ ماہ کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور پارلیمنٹ نے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی کابینہ میں شامل باقی سات وزراء کی بھی منظوری دے دی ہے۔پارلیمان نے وزیرتیل احسان عبدالجبار اور چھے دوسرے وزراء کے ناموں کی منظوری دی ہے۔ان میں خارجہ امور ، تجارت ، ثقافت ، زراعت ، انصاف اور تارکین وطن کے امور کے وزراء شامل ہیں۔پارلیمان نے قبل ازیں مئی کے اوائل میں پندرہ وزراء کے ناموں کی منظوری دی تھی۔نئے وزیرتیل احسان عبدالجبار اسماعیل عراق کی سرکاری تیل کمپنی بصرہ آئل کمپنی کے سربراہ ہیں۔ان کے تقرر سے قبل عراق نے اوپیک پلس کے وزراء کے اجلاس میں حصہ لیا تھا۔اس اجلاس میں ان ممالک نے کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر تیل کی عالمی مارکیٹ میں کساد بازاری کی وجہ سے تیل کی پیداوار میں کمی سے اتفاق کیا تھا۔نئے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی عراق کے سابق انٹیلی جنس چیف ہیں۔ وہ ماضی میں صحافی بھی رہ چکے ہیں۔عراقی پارلیمان نے مئی کے اوائل میں ان کی حکومت کی منظوری دی تھی مگرانھوں نے اپنی حکومتی مدت کا آغاز ایک نامکمل کابینہ کے ساتھ کیا تھا کیونکہ ان کے نامزد متعدد وزراء کو پارلیمان نے مسترد کردیا تھا۔انھیں کسی خاص سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ بظاہر عراق میں دخیل دو قوتوں ایران اور امریکہ کے لیے قابل قبول ہیں۔عراق کی سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں نے بات چیت اور خفیہ سمجھوتوں کے بعد ان کے زیر قیادت نئی کابینہ کی منظوری دی ہے۔وزیراعظم کاظمی کی اس نئی حکومت کو کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد صحت کے بحران کا سامنا ہے۔عراقی معیشت کا انحصار تیل کی آمدنی پر ہے اور اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے وہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔اس کے علاوہ داعش کے جنگجو بھی ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ان مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ انھیں عوام کی امیدوں پر بھی پورا اترنا ہوگا جوگذشتہ سال اکتوبر سے ملک میں بے روزگاری ،ارباب اقتدار کی بدعنوانیوں اور سرکاری خدمات کے پست معیار کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔