علم کے ذریعہ ہی سماجی ، معاشی ناانصافی اور ظلم کو روکنا ممکن

   

وٹسن گاؤں شولاپور میں ایشین مائناریٹز یونیورسٹی کا سنگ بنیاد ، علماء و دانشوروں کا خطاب

گلبرگہ ۔5 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شہر گلبرگہ کے پڑوسی شہر شولاپور مہاراشٹرا کے ممتاز سماجی خدمت گزار جناب اقبال باغبان کی رپورٹ کے مطابق شولاپور میں ملک بھر سے آئے دانشوروں، ادیبوں، چانسلرز، وائس چانسلرز اور علمی، ادبی اور سماجی خدمت گزاروں کی موجودگی میں اقلیتی تعلیمی رابطہ کانفرنس کا تاریخی انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس کانفرنس میں ’’موجودہ حالات سے واقف رہیں، معیاری تعلیم حاصل کریں۔ معاشی منصوبہ بندی کے بغیر ترقی ناممکن ہے‘‘ عنوان پر مقررین نے خطاب کیا ۔ سابق چانسلر ظفر سریش والا نے کہا کہ علم ہمیشہ زندگی میں ترقی کی بنیاد رہا ہے۔ علم کے ذریعہ ہم معاشرہ میں برابری لا سکتے ہیں، خواتین پر ہونے والے ظلم کو روک سکتے ہیں اور سماجی، ثقافتی اور نسلی امتیاز کو ختم کرکے آزادی کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ انہی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایشین مائنارٹیز یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد کی گئی۔اس تقریب کا اہتمام گلوبل ایجوکیشنل اینڈ ہیلتھ آرگنائزیشن شولاپور، ماہنامہ گل بوٹے، ممبئی اور ایشین سینٹر فار سوشل اسٹڈیزنے کیا۔ اس موقع پر اقلیتی تعلیمی رابطہ کانفرنس کا انعقاد شولاپور کے ہیریٹیج لان میں صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک کیا گیا۔افتتاحی تقریب کے صدر سابق چانسلر ظفر سریش والا نے تلقین کی کہ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے۔ انھوں نے تعلیم کو موجودہ دور کی ضروریات کے ساتھ جوڑنے اور جدیدیت کو اپنانے کی ترغیب دی۔ سریش والا نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے اقلیتوں کی سیاسی اور سماجی حیثیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور معاشی منصوبہ بندی پر خصوصیت کے ساتھ زور دیا۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ شولاپور میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد ایک یادگار اور تاریخی کام ہے۔ شولاپور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پرکاش مہانور نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں تعلیم کی بہت ضرورت ہے اور یونیورسٹی کا قیام اس کمی کو پورا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، سرسید اکیڈیمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے سرسید کی تعلیمی تحریک کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے شولاپور میں ایشین مائناریٹیز یونیورسٹی کے قیام کو سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک کی توسیع قرار دیا اور اپنی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔تلنگانہ کے ایم ایل سی جناب عامر علی خان نے ایشین مائنارٹیز یونیورسٹی کو حیدرآباد میں متعارف کرانے کا یقین دلایا۔دوحہ قطر میں پونا یونیورسٹی جاری کرنے والے حسن چوگلے نے کہا کہ آصف اقبال کی یونیورسٹی کے قیام کی کوششیں سماجی قیادت کرنے والوں کے لیے ایک مثال بنے گی۔ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر نے ایشین مائنارٹیز یونیورسٹی کے قیام میں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ۔ گل بوٹے کے ایڈیٹر فاروق سید نے تمہیدی کلمات اور ڈاکٹر قاسم امام نے مہمانان کا تعارف پیش کیا۔ جلسے کی نظامت معیز سراج شولاپوری نے کی۔افتتاحی تقریب کے بعد مہمانان کا قافلہ ولسنگ پہنچ کر ایشین مائنارٹیز یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔ افتتاحی جلسے کے بعد بنیادی تعلیم، اعلی تعلیم، جدید تعلیم اور تربیت، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے، پر تین سیشن ہوئے جن میں ملک بھر سے آئے ہوئے جید ماہرین تعلیم، دانشوران، علماء کرام نے خطاب کیا۔ مقررین کی ایک طویل فہرست ہے جن میں مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی (سیکرٹری، آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ)، پروفیسر غضنفر علی (سابق ڈائریکٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)، پروفیسر سعود عالم قاسمی (علی گڑھ)، سید سرور چشتی (سجادہ نشین، اجمیر شریف)، محمود صدیقی (رجسٹرار، مانو، حیدرآباد)، سمیر صدیقی (دہلی)، مبارک کاپڑی(ممبئی)، سرفراز آرزو (مدیر، روزنامہ ہندوستان، ممبئی)، خالد سیف الدین (سروش، اورنگ آباد)، عامر انصاری(ممبئی)، پروفیسر شاہد کھوت(پونے)، نظام الدین راعین(ممبئی)، ڈاکٹر انجم قادری شامل ہیں ۔ ملک بھر سے علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی کی بہت بڑی تعداد ایشین مائنارٹیز یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی گواہ بنی رہی، جن میں لکھنؤ پولس سپرنٹنڈنٹ سلمان تاج پاٹل، خان نوید الحق (پونے)، سید شعیب ہاشمی(مہاراشٹر، اردو اکادمی)، ایم اے ماجد (حیدرآباد)، پروفیسر سلیم محی الدین (پربھنی)، سید سعید احمد (پونے)، سلطان مالدار، پرنسپل زیبا ملک، یونس صدیقی، کمال مانڈلیکر، مشیر انصاری، ڈاکٹر عبدالعزیز ساونت، ولی احمد خان (احمد آباد)، عبدالماجد (ناندیڑ)، رفیق کاپڑیا، عارفہ خان نوید الحق، فرزانہ شاہد، ڈاکٹر محمد ندیم (اکولہ)، نیلوفر زری والا، محمد بھائی، تنویر احمد (دہلی)، ابوبکر رہبر (اورنگ آباد)، قاضی مخدوم، سراج آرزو، صفی انوری، (بیڑ)، راشد خان، ایڈوکیٹ فیصل مومن (بھیونڈی)، ایڈوکیٹ ساجد، افتخار پٹیل، حسین اختر، قاضی غوث، ڈاکٹر سراج مومن، سمیع مومن، نعیم سر (بھیونڈی)، کامریڈ مختار، کاظم سر، تعلیمی کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے سرفراز احمد، ایڈووکیٹ محبوب کوتھمبیرے، سی اے مولانا شیخ، زبیر شیخ، عقیل شیخ، الطاف کودلے، الطاف جاکلے، غنی قریشی، پروفیسر غوث شیخ، سرفراز احمد، مرتضیٰ لدھوٹیگھر، علی حسن، مدثر پیرزادے، عرفان پٹیل، سمیع سید، محمد ماجد، عبداللہ شیخ، واجز سید، جنید عطار اور احمد سرور نے بھرپور محنت کی۔