142 عمارتوں کی فہرست حکومت نے جی ایچ ایم سی کو پیش کی ، 164.5 کروڑ کے ترقیاتی کام پرانے شہر میں جاری
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں ثقافتی ورثہ کی کمی نہیں ہے ۔ صدیوں قدیم آصفیہ دور کی قدیم تاریخی عمارتیں آج بھی ہماری نظروں کے سامنے موجود ہیں ۔ ان میں کئی ہیرٹیج عمارتیں خستہ حالت کا شکار ہوچکی ہیں ۔ مزید کئی عمارتوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ اس تناظر میں حکومت نے ہیرٹیج عمارتوں کا تحفظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جنگی خطوط پر حفاظتی انتظامات کرنے اور قدیم عمارتوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ شہر حیدرآباد میں 20 سے زائد کلاک ٹاورس ، بیسوں برجس ، کمانیں ، قدیم دروازے ، مساجد ، قدیم گیسٹ ہاوزس ، سیڑھیوں کی باولیاں ، مختلف اداروں کی عمارتیں ، ہوٹلس اور دیگر کئی تعمیرات ہیں ۔ محکمہ منصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت کے حکم پر جلد ہی ٹائیٹل سروے شروع کردیا جائے گا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارتوں اور ان کے صحیح دستاویزات کی جانچ کی جائے گی اور اگر کوئی تنازعات ہیں تو ان کی تفصیلات بھی سروے کے حصہ کے طور پر درج کی جائے گی ۔ ان عمارتوں کے مالکین کون ہیں انہیں کب تعمیر کیا گیا ۔ فی الحال وہ کس حالت میں ہے اور کس کی تحویل میں ہے ۔ کیا ملکیت کے خلاف کوئی عدالتی مقدمات ہیں ۔ اگر ہیں تو سروے میں کیسے حل ہوں گے ۔ جی ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی ۔ نظام کے دور میں موسیٰ ندی کے اطراف و اکناف ہی شہر حیدرآباد کو زیادہ ترقی دی گئی تھی ۔ ندی کے دونوں کناروں پر ہاسپٹلس ، تجارتی عمارتیں ، مارکٹس ، باغات ، انتظامی عمارتیں اور شاہی محلات تعمیر کئے گئے تھے ۔ 142 ہیرٹیج عمارتوں کی فہرست میں افضل گنج ، چارمینار ، فلک نما ، گوشہ محل ، عابڈس ، پرانا پل کے علاقوں میں تعمیرات زیادہ ہیں جس کے پیش نظر جی ایچ ایم سی کی جانب سے 164.5 کروڑ روپئے کے مصارف سے کئی تاریخی عمارتوں کی پہلے سے ہی تزئین و آرائش کی جارہی ہے ۔ 30 کروڑ روپئے کی لاگت سے شروع ہونے والے سردار محل کی بحالی کا کام ایک ماہ سے جاری ہے ۔ 45 کروڑ روپئے کے مصارف سے لاڈ بازار ، 36 کروڑ روپئے کے مصارف سے مرغی چوک ، 10.5 کروڑ روپئے کے مصارف سے میر عالم منڈی 40 کروڑ روپئے کے مصارف سے پتھر گٹی کے علاوہ دیگر تعمیرات کے ترقیاتی کام کی پیشرفت جاری ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کو سرکلس میں تقسیم کرتے ہوئے سروے کیا جارہا ہے ۔ حکومت نے جی ایچ ایم سی کو 142 تاریخی عمارتوں کو فہرست پیش کی ہے ۔ جس میں علی منزل ، ہائی کورٹ ، اسٹیٹ آرکیالوجیکل میوزیم ، سٹی کالج ، سکندرآباد کلاک ٹاور ، فتح میدان کلاک ٹاور ، اسٹیٹ سنٹرل لائبریری ، آندھرا پرتیکا بھون ، آسمان گڑھ پیالیس ، امین منزل ، عالیہ آباد سرائے ، افضل گنج مسجد کے علاوہ دیگر عمارتوں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔۔ ن