عمران خان کا اپوزیشن کو چکمہ

   

Ferty9 Clinic

لوگ ہاتھو ں میں لئے پھرتے ہیں اب دیدہ تر
آپ کے شہر میں کل دیکھئے کیا کیا ہوگا
پاکستان میں سیاسی افرا تفری بالآخر قومی اسمبلی کی تحلیل تک پہونچ گئی اور عمران خان اپوزیشن جماعتوںکو چکمہ دیتے ہوئے اپنے مقصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ عمران خان کے تعلق سے کہا جا رہا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو شکست دینے کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں اور کل سے تو خاص طور پر کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کرکٹر رہے ہیںاور وہ آخری گیند تک مقابلہ کرینگے ۔ آج آخری گیند پر انہوں نے جو اسٹروک لگایا ہے اس کی نہ اپوزیشن جماعتوں کو کوئی توقع تھی اور نہ ہی پاکستان کے عوام نے ایسی کوئی امید رکھی تھی ۔ آج ایوان میں تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی اسپیکر کے ذریعہ عمران خان نے مسترد کروادیا ۔ اس طرح وہ پارلیمنٹ میں شکست کے دھبہ سے بچ گئے ۔ انہوں نے آئندہ موقع فراہم نہ کرنے کے مقصدسے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی صدر مملکت سے سفارش بھی کردی ۔ صدر عارف علوی نے فوری طور پر اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان بھی کردیا اور ایک طرح سے اپوزیشن کے تمام جمہوری راستے بند کردئے گئے ۔ عمران خان اب کارگذار وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک کے مقابلہ شکست کا دھبہ بھی خود پر لگنے نہیںدیا اور آئندہ انتخابات اپوزیشن جماعتوں کی نگرانی میں کروانے کا بھی امکان ختم کردیا ۔ اب ملک میں آئندہ تین ماہ میں عام انتخابات ہونگے ۔ عمران خان انتخابات کی تیاریوں کا پہلے سے آغاز کرچکے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ مہینے اسلام آباد میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جو تقریر کی تھی اس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ عوام سے رجوع ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ تاہم اس کاطریقہ کار جو اختیار کیا گیا وہ آج سامنے آیا ہے ۔ حالانکہ بہت تیزی سے سارے کام کردئے گئے ہیں تاہم کہا جا رہے ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس نے سارے حالات کا نوٹ از خود لیا ہے اور وہ اس پر کوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اس طرح کے اقدامات اور فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کا اختیار رکھتی ہیں۔ ابھی اپوزیشن جماعتوں کیلئے بہت کم امکانات باقی رہ گئے ہیں جن کو وہ اختیار کرسکتے ہیں۔
عمران خان نے ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے ۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپوزیشن جماعتوں کو اقتدار پر قابض ہونے کا موقع فراہم کرنا نہیںچاہتے تھے ۔ اگر اپوزیشن کی نگرانی میں عام انتخابات کروائے جاتے تو عمران خان کوشکست کا اندیشہ لاحق تھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنی موجودگی ہی میں انتخابات کروائے جائیں اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب وہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب ہونے کا موقع نہ دیں اور نہ اپوزیشن کو متبادل حکومت سازی کا موقع فراہم کریں۔ عمران نے نہایت چالاکی سے اپوزیشن کی توجہ دوسری جانب مبذول رکھی ۔ اپنے لئے خود ایک حکمت عملی تیار کرلی ۔ عوام کو الگ سے الجھن میںڈال رکھا تھا کہ وہ بھی سڑکوں پر اتر آئیں۔ تحریک عدم اعتماد در اصل پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ ہے ۔ وہ عوام کوورغلا رہے تھے ۔ انہیںسڑکوںپرآکر اپوزیشن کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کی تلقین بھی کر رہے تھے ۔ عمران خان کے اتحادی ہوں یا پھر ان کے مخالفین ہوں کسی کو عمران خان کی اس حکمت عملی کا پتہ نہیںچل پایا اور وہ اپنے خوابوں میںرہ گئے عمران خان الگ ہی اسٹروک کھیل گئے ۔ عمران خان نے اپنے اس فیصلے سے یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی کہ وہ نہ صرف کرکٹ کے میدان میں کامیاب رہے ہیں بلکہ وہ سیاسی میدان میں بھی اپنے مخالفین کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوںنے لمحہ آخر تک اپنے حواس قابو میں رکھے ۔ اپوزیشن کے اکسانے پر کوئی اشتعال انگیز بات نہیںکہی اور آخر میں اپوزیشن کو چکمہ دے دیا ۔
دیکھنا یہ ہے کہ اب اپوزیشن جماعتیں کیا فیصلہ کرتی ہیں۔ وہ قومی اسمبلی میں دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کرچکی ہیںتاہم اس سے اسپیکر اور صدرمملکت کے فیصلے پر کتنا اثر پڑیگا یہ کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔ عدالتیں اس پر کیا کچھ فیصلے دے سکتی ہیں اس کا بھی اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس اب زیادہ امکانات نہیں رہ گئے ہیں ۔وہ توڑ جوڑ کی سیاست سے اب آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ انہیں ملک کے عوام کے سامنے جانا ہوگا ۔ عوام کو اپنے موقف سے واقف کروانا ہوگا اور ان سے تائید مانگنی ہوگی ۔ پاکستان کے عوام کس کی تائید کریں گے یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا لیکن انتخابات عوام کیلئے ایک اچھا موقع ضر ور ہیں ۔