445 کروڑ کے خرچ سے 1.625 کیلومیٹر 4 لائن فلائی اوور کی تعمیر
حیدرآباد۔ 26 فروری (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ایک اور فلائی اوور عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کل گول ناکہ تا 6 نمبر جنکشن سے مکرم ہوٹل تک تعمیر کردہ فلائی اوور کا معائنہ کیا تھا۔ مہاشیوراتری کے پیش نظر اس فلائی اوور کو 26 فروری سے عوام کی آمدورفت کیلئے کھول دینے کی ہدایت دی تھی جس پر آج عمل آوری ہوئی۔ اس فلائی اوور کے دستیاب ہوجانے سے اوپل سے ایم جی بی ایس جانے والوں کو اور ساتھ ہی شہر سے ورنگل کی جانب جانے والی بسیں اور دیگر گاڑیوں کو آسانی ہوگی۔ ایک طرف جہاں ٹریفک مسائل سے نجات ملے گی، وہیں سفر کا وقت بھی کم ہوگا اور عنبرپیٹ جانے آنے والوں کیلئے ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا، بالخصوص 6 نمبر سری رمنا جنکشن کے پاس بغیر ٹریفک جام کے عوام کو سفر کی سہولت ہوگی۔ چادر گھاٹ پر سگنل کو کراس کرے بغیر رامنتا پور، اوپل، حبشی گوڑہ، اسٹریٹ نمبر 8 تک آسانی سے جاسکتے ہیں۔ ابتداء میں یہ کہا جارہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی یا مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری اس فلائی اوور کا افتتاح کریں گے، مگر وہ ممکن نہ ہوسکا۔ ٹریفک مسائل کو دیکھتے ہوئے فلائی اوور پر سے گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت دے دی گئی۔ ماباقی بیوٹی فکیشن ورک، سرویس روڈس کی تکمیل کے بعد دوبارہ بڑے پیمانے پر افتتاح کرنے کا منصوبہ ہے۔ تقریباً 445 کروڑ روپئے کے مصارف سے 1.625 کیلومیٹر طویل 4 لائن پر مشتمل اس فلائی اوور کو نیشنل ہائی وے اتھاریٹی نے تعمیر کیا ہے۔ مرکزی حکومت کے فنڈ سے تعمیر کردہ اس فلائی اوور کو حصول اراضی کیلئے 180 کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں جس میں تلنگانہ حکومت نے 140 کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ اس فلائی اوور کا مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے 2018ء میں سنگ بنیاد رکھا تھا۔ 2021ء تک کاموں کا آغاز نہیں ہوا۔ 2023ء کے اواخر تک فلائی اوور کی تعمیر مکمل کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا۔ کچھ وجوہات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی تھی اور یہ فلائی اوور اب عوام کیلئے دستیاب ہوا ہے۔2