محکمہ تعلیم پر 10 فیصد بجٹ کا خرچ، ہر ضلع میں میڈیکل کالج کی تجویز: ہریش راؤ
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر فینانس ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں تعلیم کے شعبہ کو نظرانداز کرنے سے متعلق اپوزیشن کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ریاست میں اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عنقریب تقررات کئے جائیں گے۔ ہریش راؤ نے سدی پیٹ ضلع کے گجویل میں پنچایت راج ٹیچرس کی ریاستی کونسل سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور ٹیچرس کے تقررات کے علاوہ اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے فنڈز مختص کئے گئے۔ ٹیچرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کے پروپگنڈہ کا جواب دیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ انہیں اساتذہ سے ملاقات پر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے کیونکہ یہ مستقبل کے ذمہ دار شہریوں کو تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اساتذہ کے تقررات کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور عنقریب ریکروٹمنٹ بورڈ کی تشکیل کے ذریعہ تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین اور اساتذہ کے لئے ٹی آر ایس حکومت ہمیشہ موافق فیصلے کرتی رہی ہے۔ جب کبھی اساتذہ اور ملازمین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا حکومت نے حل تلاش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ہیلت کارڈ کے بارے میں عنقریب فیصلہ کیا جائے گا۔ تلنگانہ کو ملک کیلئے مثالی قراردیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ہر شعبہ میں ترقی کے ذریعہ تلنگانہ نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی کئی اسکیمات کو دیگر ریاستوں میں اختیار کیا گیا ہے۔ اساتذہ کو چاہیئے کہ وہ ریاست کی ہمہ جہت ترقی میں اپنا حصہ ادا کریں۔ محکمہ صحت کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ڈاکٹرس، نرسیس، بی فارمیسی، ایم فارمیسی اور بی ڈی ایس کے کورسیس تلنگانہ میں برقرار ہیں۔ ریاست کی تشکیل کے وقت تلنگانہ میں ایم بی بی ایس کی نشستیں صرف 850 تھیں جو آج بڑھ کر 2950 ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت صرف 3 میڈیکل کالجس سرکاری سطح پر موجود تھے۔ کے سی آر ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ کرچکے ہیں اور ابھی تک 12 میڈیکل کالجس کا قیام عمل میں آیا۔ ایک سال میں 8 نئے میڈیکل کالجس شروع کئے گئے جبکہ آئندہ سال 9 نئے میڈیکل کالجس قائم کئے جائیں گے۔ ریاست کی تشکیل کے وقت اقامتی اسکولوں کی تعداد 295 تھی جو آج بڑھ کر 920 ہوچکی ہے جس میں 4.46 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ریاست کے مجموعی بجٹ کا 10 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ریاست کی جی ایس ڈی پی ایک لاکھ 24 ہزار تھی جو جاریہ سال بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار ہوچکی ہے۔ ضلع پریشد صدرنشین آر رادھا کرشنا، رکن کونسل یادو ریڈی، فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین پرتاب ریڈی اور دوسرے اس موقع پر موجود تھے۔ر