پارٹی سربراہ کی سالگرہ تقریب ، ریاست بھر میں جشن ، کانگریس حکومت پر تنقید
حیدرآباد۔ 17 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سربراہ و سابق چیف منسٹر کے سی آر کی ساری ریاست میں پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر سالگرہ تقریب منائی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ کے سی آر صرف میرے لئے نہیں بلکہ تلنگانہ کے قومی ہیرو ہیں۔ کے سی آر کا بیٹا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ جس وقت تلنگانہ تحریک کا آغاز کیا گیا تھا، اس وقت میڈیا نہیں تھا اور نہ ہی تحریک کو تائید حاصل تھی۔ ’’میڈیا، منی، مسل پاور‘‘ کے بغیر علیحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرنے کا کے سی آر کو اعزاز حاصل ہے۔ کئی مسائل اور مشکلات کے باوجود کے سی آر نے نہ صرف تحریک چلائی بلکہ اس کو کامیاب بھی بنایا۔ ضرورت پڑنے پر اپنی زندگی کو بھی داؤ پر بھی لگادیا۔ کے سی آر کے 71 ویں سالگرہ کے موقع پر حیدرآباد کے تلنگانہ بھون، بنجارہ ہلز میں جشن کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مدھوسدن چاری، سابق وزراء ہریش راؤ، ٹی سرینواس یادو کے ساتھ مل کر کے ٹی آر نے کیک کاٹا۔ اس کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کا دور تلنگانہ کیلئے سنہرے دور تھا جہاں پر سماج کے تمام طبقات خوشحال ہونے کے ساتھ ساتھ مطمئن بھی تھے۔ ایک سال میں کانگریس حکومت عوام کے اعتماد سے محروم ہوچکی ہے۔ ریاست کے کسی بھی حصے میں جاکر عوام سے سوال کیا جائے تو ہر کوئی بلاجھجھک کے سی آر کو یاد کررہا ہے اور دوبارہ کے سی آر کو ہی چیف منسٹر بنانا چاہتا ہے۔ ہم سب متحد ہوکر کام کریں گے اور کے سی آر کو دوبارہ چیف منسٹر بنائیں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ علیحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرنے والے کے سی آر نے ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی تھی۔ بڑے بڑے آبپاشی پراجیکٹس تعمیر کئے گئے، چاول کی پیداوار میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہوگیا ہے۔ کسانوں کو مفت برقی فراہم کی گئی۔ عوام سے جو وعدے کئے گئے، وہ سارے وعدے پورے کئے گئے۔ غریب عوام میں مختلف اقسام پینشن تقسیم کئے گئے جس کی سارے ملک میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کانگریس پارٹی نے انتخابات میں عوام کو ’’ہتھیلی میں جنت‘‘ دکھائی اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ 2
خواتین کو ماہانہ 2,500 روپئے مالی امداد دینے کا وعدہ کیا گیا جس پر آج تک عمل آوری نہیں ہوئی۔ 2
طلبہ کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ جاری نہیں کیا گیا۔ سرکاری دواخانوں میں عوام کو بنیادی سہولتیں تک بھی دستیاب نہیں ہیں ، نتیجتاً کوئی بھی طبقہ حکومت سے مطمئن نہیں ہے۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں بی آر ایس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ 2