حیدرآباد : ریاستی وزیر زراعت نرنجن ریڈی نے جناسینا پارٹی اور اس کے سربراہ پون کلیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کے بغیر جناسینا ہے اور فوج کے بغیر قائد ہونے کا طنزیہ ریمارکس کیا۔ جنا سینا سربراہ پون کلیان کی جانب سے جی ایچ ایم سی کے انتخابات سے دستبرداری اختیار کرنے اور بی جے پی کی تائید کرنے پون کلیان کے اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آندھراپردیش کے عوام کی جانب سے مسترد کردہ پون کلیان سے بی جے پی نے اتحاد کیا ہے جس کا گریٹر حیدرآباد کے عوام پر کوئی اثر نہیں رہے گا۔ عوام پہلے ہی ٹی آر ایس کو کامیاب بنانے کا من بنا چکے ہیں۔ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نرنجن ریڈی نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد سے وزیراعظم نریند رمودی عوام کی بددعا میں ہے۔ کسانوں کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے ڈھائی لاکھ کروڑ روپئے کے قرضہ جات معاف کئے ہیں۔ سرکاری پبلک سیکٹر اداروں کو کمزور کرتے ہوئے خانگی اداروں میں تبدیل کرنے کی مرکزی حکومت کوشش کررہی ہے۔ حیدرآباد کے سیلاب متاثرین کیلئے مرکزی حکومت نے امداد نہیں دی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد کو بی جے پی کے قائدین نے رکواتے ہوئے حکومت کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کررہی ہے۔
حیدرآباد میں پانی کی قلت کا مستقل حل برآمد کرنے کا اعزاز چیف منسٹر کے سی آر کو ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی کی فرقہ پرستی کو قوم پرستی کے نام پر پیش کئے جانے والے اقدامات سے چوکنا رہے۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے ایک بھی پراجکٹ کیلئے کوئی مالی امداد نہیں دی اور نہ ہی شہر حیدرآباد کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت نے کوئی تعاون کیا ہے۔