عوامی اداروں کی فروخت کا منصوبہ ترک کرنے کے ٹی آر کا مطالبہ

   

مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کو مکتوب، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں ناکامی کا الزام
حیدرآباد۔/19 جون، ( سیاست نیوز) وزیر بھاری مصنوعات کے ٹی راما راؤ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ کے مختلف عوامی شعبہ کے اداروں کے اثاثہ جات کی فروخت اور اراضی کے الاٹمنٹ کے منصوبہ سے دستبرداری اختیار کرلے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اثاثہ جات کی فروخت کے بجائے مرکز عوامی شعبہ کے اداروں کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے۔ کے ٹی راما راؤ نے مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کو مکتوب روانہ کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کو مذکورہ اراضیات پر نئی صنعتوں کے قیام کا موقع فراہم کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممکن نہ ہو تو حکومت کو مرکزی اداروں کے اثاثہ جات کی فروخت کا منصوبہ ترک کرنا چاہیئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اثاثہ جات کی فروخت ریاستی حکومت کے اختیارات کے مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستیں بشمول ٹاملناڈو نے عوامی شعبہ کے اداروں کی فروخت کی مخالفت کی ہے۔ میں مودی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے منصوبہ پر نظرِ ثانی کرے بصورت دیگر تلنگانہ حکومت فروخت کی مساعی کی شدت سے مخالفت کرے گی۔ سرمایہ نکاسی کے نام پر عوامی شعبہ کے اداروں کی فروخت کی مخالفت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت کس اختیار کے تحت یہ منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ بدبختی کی بات ہے کہ مودی حکومت نے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کیا۔ اگر عوامی شعبہ کے اداروں کو بحال کیا گیا تو ہزاروں نوجوانوں کو راست اور لاکھوں نوجوانوں کو بالواسطہ طور پر روزگار حاصل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کیبلس لمیٹیڈ، ہندوستان فلورو کاربنس لمیٹیڈ، انڈین ڈرگس اینڈ فارماسیوٹیکلس لمیٹیڈ، ایچ ایم ٹی، سمنٹ کارپوریشن آف انڈیا اور آرڈیننس فیکٹری کے اثاثہ جات کو تلنگانہ میں فروخت کرنا چاہتی ہے۔ ریاستی حکومت نے سابق میں 7200 ایکر اراضی 6 کمپنیوں کو الاٹ کی تھی جس کی مالیت تقریباً 5 ہزار کروڑ ہے۔ ریاستی حکومت نے رعایتی قیمت پر یہ اراضی الاٹ کی تھی۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ اراضیات کو واپس کردے اور عوامی شعبوں کے اداروں کو فروخت کرنے کے بجائے بحال کرے۔ر