عوامی تائید سے محروم بی جے پی پون کلیان کا سہارا لینے پر مجبور

   

پرستاروں کے چند ہزار ووٹوں سے پارٹی کی امیدیں وابستہ ۔ پاور اسٹار خود اے پی میں دو حلقوں سے ہار گئے تھے
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

حیدرآباد 8 نومبر ( سیاست نیوز ) ایسا لگتا ہے کہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کو اب اپنے حقیقی عوامی و انتخابی موقف کا اندازہ ہونے لگا ہے اور پارٹی یہ محسوس کرچکی ہے کہ وہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان تیسرا مقام بھی حاصل کرنے میں شائد کامیاب نہیں ہوگی ۔ بی جے پی ایک وقت تھا جب ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی تاہم کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج اور راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے بی جے پی کو کہیں پس منظر میں ڈھکیل دیا ہے ۔ بی جے پی کو بھی عوامی موڈ کا اندازہ ہوگیا ہے اور اس نے بھی اب اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے کسی بھی قیمت پر کانگریس کو اقتدار سے روکنے کی حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ معلق اسمبلی کی صورت میں بی آر ایس کی تائید کرتے ہوئے اقتدار میں حصہ داری کے خواب کو پورا کیا جاسکے ۔ بی جے پی کو یہ بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ اپنے دم پر تو اتنا بھی نہیں کرپائے گی ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے تلگواداکار پون کلیان کی تائید حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پون کلیان اور بی جے پی میں تلنگانہ کیلئے انتخابی مفاہمت ہوچکی ہے حالانکہ پون کلیان آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے ساتھ اتحاد کا اعلان کرچکے ہیں۔ چونکہ تلگودیشم نے مخالف حکومت ووٹ کی تقسیم روکنے تلنگانہ میں انتخابات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ایسے میں بی جے پی پون کلیان کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہی ہے ۔ حالانکہ پون کلیان کی تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بھی کوئی زیادہ سیاسی اہمیت نہیں ہے اور آندھرا پردیش اسمبلی انتخابات میں پون کلیان نے دو حلقوں سے مقابلہ کیا تھا اور دونوں ہی حلقوں سے انہیں شکست ہوگئی تھی لیکن بی جے پی تلنگانہ میں ان سے فائدہ کی امید رکھے ہوئے ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تلنگانہ میں بھی پون کلیان کے پرستاروں کی خاطر خواہ تعداد موجود ہے جو ان کی فلموں کی دلدادہ ہے ۔ بی جے پی کو امید ہے کہ جہاں وہ قدرے مستحکم موقف میں ہے وہاں پون کلیان کے چند حامیوں کا ووٹ اگر اسے مل جائے تو پھر وہ کامیاب ہوسکتی ہے اور دو ہندسی نشستوں تک پہونچنے کے بعد اقتدار میں حصہ داری کیلئے بی آر ایس سے مفاہمت کرسکتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے حیدرآباد میں جلسہ کے موقع پر جس طرح پون کلیان کو مرکزی حیثیت دی گئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کی اپنی عوامی مقبولیت کتنی رہ گئی ہے ۔ پارٹی اب دوسروں کے ووٹ حاصل کرنے اور ان کے سہارے اقتدار میں حصہ داری چاہتی ہے اور جب ایسا ہوجائیگا تو وہ پون کلیان سے بھی ترک تعلق کرکے بی آر ایس کا ہاتھ تھام سکتی ہے ۔ بی جے پی کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ وہ ہمیشہ علاقائی جماعتوں سے اتحاد کرتی ہے اور پھر اپنے قدم جمانے کے بعد ان ہی علاقائی جماعتوں کو حاشیہ پر لا کھڑا کردیتی ہے ۔ ایسے میں پون کلیان سے ترک تعلق کرکے بی آر ایس سے اتحاد کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔