عوامی فلاح و بہبود حکومت کا اولین مقصد

   

شادنگر میں 2K رن، پرجاوجئے اتسو سے رکن اسمبلی وی شنکر کا خطاب، طلبہ سے بھی ملاقات
شادنگر ۔ 3 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عوام نے مجھے موقع دیا ہے۔ عوام کا قرض چکانا میری ذمہ داری ہے۔ عوامی فلاح و بہبود اور ترقی میرا مقصد ہے ۔ میں ہمیشہ عوام کے ساتھ رہوں گا. ان خیالات کا اظہار شادنگر ایم ایل اے ویرلا پلی شنکر نے شادنگر مونسپلٹی کے تحت شروع کی گئی ٹو کے رن میں حصہ لینے کے دوران کیا۔ طلباء کے ساتھ پرانی قومی شاہراہ اور اہم سڑکوں سے ہوتے ہوئے منی اسٹیڈیم سے مونسپل تک ایک بہت بڑی ٹو کے رن نکالی گئی۔ ٹو کے رن میں مختلف محکمہ جات کے ملازمین۔ مقامی کانگریس پارٹی قائدین، کارکنوں اور عہدیداروں نے حصہ لیتے ہوئے ایم ایل اے کو ایک سال اقتدار مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ اسی طرح میونسپل آفس میں پرجا وجے اتسو پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ ایک سال کی حکومت کی تکمیل کے موقع پر ایم ایل اے کی شال پوشی وہ گل پوشی کی گئی ۔ اسکول کے بچوں نے بھی ایم ایل اے سے ہاتھ ملا کر مبارکباد دی۔ لوگوں کے درمیان رہنا اور ان کو مسائل کو سننا میرا شیوہ ہے ۔ ایم ایل اے ویرلا پلی شنکر نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ہمیشہ لوگوں کے درمیان رہوں گا.. میں ان کی باتوں کو سنوں گا۔ میری خاص توجہ عوامی مسائل پر ہی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے نہ صرف خواتین کو مفت بس کی سہولت فراہم کی بلکہ آر ٹی سی کو بھی منافع بخش بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہینے کی پہلی سے نویں تاریخ تک پرجا وجے اتسو سبھا کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت اپنے کئے گئے پروگراموں کے بارے میں عوام کے سامنے بتا سکے اور عوام کسی بھی مسائل کو حکمرانوں کی توجہ دلوا سکے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ منی سٹیڈیم کے کام تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات کا تیقن دیا کہ الیکشن میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں طلبا کو تعلیم کی فراہمی پر خصوصی توجہ دیں۔ اس موقع پر مونسپل چیرمین کوندوتی نریندر، کمشنر وینکنا، ڈپٹی ڈی ایم ایچ او ڈاکٹر وجے لکشمی، ہیلتھ ایجوکیٹر سرینواس، سی آئی وجے کمار، اگنور وشوم، محمد علی خان بابر، راگھو، کونکلہ چنئیہ، چنڈی تروپت ریڈی، سابقہ ایم پی پی شیواشنکر گوڑ، اگنور بسوام، سرور پاشاہ ، بالاراجو گوڈ۔ سریکانت ریڈی، جنگا نرسملو، مبارک علی خان ، کروناکر، ببلو، کونسلر سری نواس، زمرد خان، جنگا روی اور دیگر بڑی تعداد میں موجود تھے۔