حکومت کے سوشیل آڈٹ میں اہم انکشافات،اسکیمات سے غیر مستحق افراد کو نکالنے کی مساعی
حیدرآباد ۔ 25۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے فلاحی اسکیمات سے غیر مستحق افراد کے استفادہ کرنے کے معاملہ میں کی گئی سوشیل آڈٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 37000 سے زائد سرکاری ملازمین غریبوں کے لئے شروع کی گئی اسکیمات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ خود کو غریب اور مستحق ظاہر کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات سے فائدہ اٹھانے والے سرکاری ملازمین میں کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ اسٹاف کے علاوہ مستقل ملازمین اور بعض سینئر عہدیدار شامل ہیں۔ سوشیل آڈٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ ہزاروں سرکاری ملازمین غیر قانونی طور پر فلاحی اسکیمات سے استفادہ کر رہے ہیں جن میں مہاتما گاندھی دیہی قومی ضمانت روزگار اسکیم اور اندراماں ہاؤزنگ شامل ہیں۔ حکومت نے سرکاری محکمہ جات میں ملازمین کی حقیقی تعداد کا پتہ چلانے کیلئے تمام محکمہ جات سے ملازمین کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔ حکومت نے تمام ملازمین کے آدھار کی تفصیلات کو حاصل کرتے ہوئے جب ان کی جانچ کی تو اس بات کا انکشاف ہوا کہ کئی ملازمین فلاحی اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں شامل ہیں۔ سکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق ابتدائی آڈٹ میں 37,000 سے زائد ملازمین کی نشاندہی ہوئی ہے اور اس تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آنگن واڑی ورکرس ، سوشیل ہیلت ورکرس ، ہوم گارڈس ، ولیج آرگنائزیشن اسسٹنٹس ، ولیج ریونیو اسسٹنٹس اور ریونیو ملازمین فلاحی اسکیمات سے استفادہ کررہے ہیں۔ اس فہرست میں بعض گزیٹیڈ آفیسرس بھی پائے گئے جو غریبوں کی اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 47 پوسٹ گریجویٹ ٹیچرس اور 71 سکنڈری گریڈ ٹرینڈ ٹیچرس بھی فہرست میں شامل ہیں۔ لکچررس ، سیول اسسٹنٹ سرجن اور بعض اعلیٰ عہدیدار بھی استفادہ کنندگان میں پائے گئے ۔ حکومت کی ایک اہم اسکیم کے استفادہ کنندگان میں 15704 سرکاری ملازمین کی آدھار تفصیلات میں مماثلت پائی گئی۔ ان میں 8273 عارضی ملازمین ، 3202 آؤٹ سورسنگ اور 2939 کنٹراکٹ ملازمین شامل ہیں۔ سوشیل آڈٹ کے مطابق 478 مستقل سرکاری ملازمین اور 338 گرانٹ ان ایڈ اسٹاف نے بھی حکومت سے تنخواہیں حاصل کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات سے بھی استفادہ کیا ہے۔ آنگن واڑی ٹیچرس ، ہیلپرس اور آشا ورکرس کے علاوہ جونیئر لکچررس اور ڈیٹا انٹری آپریٹرس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ منریگا اسکیم کے استفادہ کنندگان میں 11210 سرکاری ملازمین پائے گئے ہیں جن میں 7077 اعزازی اسٹاف ، 2214 کنٹراکٹر ورکرس اور 1124 آؤٹ سورسنگ ملازمین ہیں۔ 351 مستقل سرکاری ملازمین نے بھی خود کو دیہی مزدور ظاہر کرتے ہوئے منریگا اسکیم سے تنخواہ حاصل کی ہے۔ اندراماں ہاؤزنگ کے استفادہ کنندگان نے بھی کئی غیر مستحق افراد کی نشاندہی کی گئی۔ سوشیل آڈٹ کے مطابق 9135 سرکاری ملازمین نے ڈبل بیڈروم مکانات حاصل کئے یا انہیں مکانات کی منظوری عمل میں آئی ہے ۔ ان میں 2256 کنٹراکٹ اور 1371 آؤٹ سورسنگ ملازمین شامل ہیں ۔ اندراماں آتمیا بھروسہ اسکیم کے استفادہ کنندگان میں 1444 سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ سوشیل آڈٹ کے بعد حکومت نے سرکاری تنخواہیں حاصل کرنے کے باوجود فلاحی اسکیمات کے فوائد کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی ہے۔ فلاحی اسکیمات کے گائیڈ لائینس کے مطابق سرکاری ملازمین استفادہ کنندگان میں شامل نہیں کئے جاسکتے ۔ تاہم کنٹراکٹ، آؤٹ سورسنگ، ڈیلی ویجس اور اعزازی اسٹاف کے بارے میں حکومت کا پالیسی فیصلہ ابھی باقی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آمدنی کے اعتبار سے حکومت فلاحی اسکیمات میں سرکاری ملازمین کی حصہ داری طئے کرے گی۔ واضح رہے کہ بوگس اور فرضی ملازمین کا پتہ چلانے کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مہم میں کئی اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ حکومت نے صرف ایسے ملازمین کو تنخواہیں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی تفصیلات محکمہ فینانس کے پورٹل پر اپ ڈیٹ کی جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے تمام محکمہ جات کو تفصیلات داخل کرنے کیلئے 26 جنوری تک کی مہلت دی ہے۔1
