عوام اور رئیل اسٹیٹ شعبہ کو بڑی راحت، اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کا اعلان
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے مالکین کو راحت دیتے ہوئے 23 نومبر سے رجسٹریشن کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں غیر زرعی اراضیات و جائیدادوں کے رجسٹریشن پر پابندی ختم کرنے کا جائزہ لیا۔ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری سومیش کمار جنہوں نے حال ہی میں دھرانی پورٹل کے ذریعہ زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کا آغاز کیا تھا انہیں ہدایت دی کہ غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کا آغاز کریں۔ شہراور اضلاع میں غیر زرعی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن پر پابندی کے بعد سے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو دشواریوں کا سامنا تھا اور خرید و فروخت کی سرگرمیاں ٹھپ تھیں۔ مختلف گوشوں سے نمائندگی کی جارہی تھی کہ رجسٹریشن پر پابندی کو ختم کیا جائے۔ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دھرانی پورٹل کے ذریعہ شروع کردہ زرعی اراضیات کے رجسٹریشن کے عمل نے عوام میں مقبولیت حاصل کرلی ہے اور اسکے بہتر نتائج حاصل ہورہے ہیں۔ تلنگانہ کی عوام کا ماننا ہے کہ اراضی رجسٹریشن کے عمل میں تاریخی دور شروع ہوچکا ہے۔ وہ اس بات سے مطمئن اور خوش ہیں کہ دھرانی کے ذریعہ رجسٹریشن سے ان کی اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں بنیادی سطح سے حکومت کو ملنے والا عوامی ردعمل کافی حوصلہ افزاء ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ دھرانی پورٹل سے متعلق تمام مسائل کی یکسوئی کے بعد غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کا رجسٹریشن شروع کریں۔ اس فیصلہ کے پیش نظر کچھ دنوں تک انتظار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب 23 نومبر کو چیف سکریٹری سومیش کمار غیر زرعی اراضیات کے رجسٹریشن شروع کریں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میں دھرانی پورٹل کی عمدہ تیاری پر حکام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اجلاس میں وزراء پی اجئے کمار، سبیتا اندرا ریڈی، صدرنشین رعیتو بندھو سمیتی پی راجیشور ریڈی، چیف سکریٹری سومیش کمار، پرنسپل سکریٹری برائے چیف منسٹر آفس ایس نرسنگ راؤ، ریونیو سکریٹری شیشادری، فینانس سکریٹری رام کرشنا راؤ، ڈائرکٹر بلدی نظم و نسق ست نارائنا، کمشنر پنچایت راج رگھو نندن راؤ و سی ایم او عہدیدار شریک تھے۔ واضح رہے کہ دھرانی پورٹل کی تیاری کے فیصلہ کے بعد زرعی و غیر زرعی اراضیات و جائیدادوں کا رجسٹریشن روک دیا گیا تھا۔ 23 نومبر سے رجسٹریشن کی بحالی سے توقع ہے کہ بڑے پیمانہ پر اراضیات کی خرید و فروخت کا آغاز ہوگا ۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین کے علاوہ کورونا سے پریشان ایسے افراد کو سہولت ہوگی جو اپنی جائیدادوں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔