ہائی کورٹ کا 3 ڈسمبر تک حکم التواء، نجی تفصیلات پر حکومت سے وضاحت طلبی
حیدرآباد۔ ریاست میں غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے آغاز میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم التواء کو برخاست کرنے سے انکار کردیا اور حکم التواء میں توسیع کردی ہے۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے مالکین سے دھرانی پورٹل پر رجسٹریشن کے سلسلہ میں نجی تفصیلات طلب نہ کرے۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے جس میں دھرانی پورٹل پر جائیدادوں اور ان کے مالکین کی تفصیلات درج کرنے پر موقف شامل ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کو غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے آغاز کی اجازت دی جائے اور تمام رجسٹریشن ہائی کورٹ کے قطعی احکامات کے تابع ہوں گے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت قانون کی حکمرانی اور سرکاری احکامات کی اجرائی کے بغیر صرف زبانی ہدایات کی بنیاد پر اراضیات کے مالکین سے ان کی اور ارکان خاندان کی تفصیلات طلب کررہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تفصیلات کی فراہمی مالکین کیلئے لازمی ہے اس کے بغیر کوئی معاملت کی تکمیل نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے سوال کیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟ ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ وائیٹ ہاوز، پنٹگان اور دیگر اداروں کی ویب سائیٹ کو فلپائن میں بیٹھ کر ہیک کرلیا گیا پھر کس طرح ہندوستان میں یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اراضی مالکین کی تفصیلات کے تحفظ کے سلسلہ میں خدشات کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کسی شہری کو دھرانی پورٹل پر اراضی کی تفصیلات درج کرنے کیلئے مجبور نہیں کرسکتی۔ عدالت نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 3 ڈسمبر کو مقرر کرتے ہوئے حکم التواء میں اُس دن تک کی توسیع دی ہے۔