حیدرآباد۔ریاست میں آج سے غیر زرعی جائیدادوں کے قدیم طریقہ کارکے ذریعہ رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا جائیگا۔ ریاستی حکومت نے جائیدادوں کی خرید و فروخت میں قدیم طریقہ کار کو اختیار کرنے کے علاوہ رجسٹریشن میں شفافیت پیدا کرنے اقدامات کئے گئے ہیں اور 21ڈسمبر سے رجسٹریشن شروع کردیا جائیگا۔ حکومت نے غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کیلئے جو اقدامات کئے تھے ان کو عدالت میں چیالنج اور عدالت سے آدھار تفصیلات کے حصول کی مخالفت کے بعد حکومت نے قدیم طریقہ کار اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہناہے کہ جلد ہی شعبہ کی حالت بہتر ہوسکتی ہے کیونکہ لاکھوں جائیدادوں کے خریدار اور فروخت کنندگان کو رجسٹریشن کے آغاز کا انتظار تھا۔ چیف سیکریٹری سومیش کمار نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ رجسٹریشن میں شفافیت لائی جائے ۔ حکام نے بتایا کہ 21 ڈسمبر سے رجسٹریشن دفاتر معمول کے مطابق کام کریں گے اور عہدیداروں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
دھرانی پورٹل سے زرعی اراضیات کا رجسٹریشن جاری
حیدرـآباد۔ریاست میں دھرانی پورٹل پر زرعی اراضیات کا رجسٹریشن 2 نومبر کو شروع ہوا تھا اور تاحال 66614 معاملات مکمل کئے گئے۔ 89851 ادائیگیوں کے ذریعہ 106 کروڑ 15 لاکھ روپئے جمع ہوئے ہیں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار کی جاری تفصیل کے مطابق دھرانی پورٹل پر تاحال 1.35 کروڑ ہٹس ریکارڈ کئے گئے۔ دھرانی پورٹل کے ذریعہ 9 مختلف اُمور کی تکمیل کی جارہی ہے جن میں رجسٹریشن ‘سب ڈیڈ، گفٹ ڈیڈ، ماڈگیج، اراضی کی تقسیم اور وراثت کے معاملات شامل ہیں۔ قبائیلی علاقوں میں اراضیات رجسٹریشن کیلئے خصوصی ماڈیول تیار کیا گیا تاکہ ایجنسی علاقوں کے عوام کے مفادات کا تحفظ ہو۔ قبائیلی علاقوں میں 483 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ 391 ایل فارمس کی یکسوئی کی گئی۔ 346 ایل فارمس منظور کئے گئے اور 45 مسترد ہوئے ۔ 253 رجسٹریشن کی تکمیل کی گئی۔ میوٹیشن کی18199 درخواستیں موصول ہوئیں اور 3.57 کروڑ بطور فیس ادا کئے گئے۔ ضلع کلکٹرس کیس کی منظوری دیں گے اور تحصیلدار کلکٹر کے آن لائن اپرول کے بعد عمل آوری کے احکامات جاری کریں گے۔ چیف سکریٹری نے زرعی اراضیات سے متعلق اُمور کو دھرانی پورٹل سے اطمینان بخش انداز میں تکمیل کا دعویٰ کیا ہے۔