فارم ہاوز کی حکمرانی ختم کرکے عوامی حکومت قائم کی گئی

   

چیف منسٹر پر رکن اسمبلی کورٹلہ کی تنقید دیوالیہ پن کا ثبوت، جے کرشنا راؤ کی میڈیا سے بات چیت
کورٹلہ /5 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کرشنا راؤ ریاستی قائد کانگریس پارٹی نے جواڈی بھون کورٹلہ میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب چیف منسٹر ریلیف فنڈس کے ذریعہ غریب عوام کو فائدہ پہونچانے والے چیکس کی تقسیم کرتے ہوئے اسی اجلاس سے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ریاستی حکومت پر تنقید کرنا کلواکنٹلہ سنجے کے دلوالیہ پن کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں سابق بی آر ایس کے دور حکومت میں چیف منسٹر ریلیف فنڈس کے ذریعہ 400 کروڑ روپئے دئے گئے ۔ جبکہ کانگریس پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ریونت ریڈی کی قیادت میں عوام کو ایک سال کے اندر 830 کروڑ روپئے سی ایم آر ایف کی شکل میں دئے گئے ۔ برقی شعبہ میں سابق بی آر ایس پارٹی نے جو رقم خرچ کی ہے اس سے دس گنا رقم کانگریس پارٹی نے اس ایک سال میں خرچ کی ہے ۔ حلقہ اسمبلی کورٹلہ کے متیم پیٹ گاؤں میں اس وقت کی کانگریس حکومت نے نظام شوگر فیاکٹری قائم کیا تھا ۔ اور ٹھیک ڈھنگ سے فیاکٹری کو چلاتے ہوئے کسانوں کو فائدہ پہونچایا گیا لیکن ذاتی مقاصد کیلئے نظام فیاکٹری کو بند کرنے کا سہرا کلواکنٹلہ خاندان کو جاتا ہے ۔ کالیشورم پراجکٹ کے نام پر لاکھوں کروڑ روپئیوں کی بدعنوانی کی گئی ۔ لیکن ایک قطرہ بھی کسانوں کو نہ مل پایا ۔ کالیشورم پراجکٹ کا نام لے کر لاکھوں کروڑ لوٹ لئے گئے ۔ ان میں تمہارے والد کلواکنٹلہ ودیا ساگر راؤ کتنی رقم کی بدعنوانی کی ہے ۔ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ جواڈی کرشنا راؤ نے کلواکنٹلہ خاندان پر ہزار کروڑ غیر قانونی آمدنی کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کے سی آر کے فارم ہاوز کی حکمرانی کو منہدم کرتے ہوئے پرجا پالنا لے آئے ہیں۔ اسے برداشت کرتے ہوئے ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر کلواکنٹلہ خاندان کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔