پیرس : دنیا کے کسی بھی ملک نے ابھی تک افغانستان پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود فرانس میں افغانستان کا سفارت خانہ بدستور کام کر رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پیرس کے سفارتخانے میں تعینات سفارت کاروں کا تعلق طالبان کی حکومت سے نہیں ہے بلکہ انہیں افغانستان کی سابقہ حکومت نے یہاں بھیجا تھا۔فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کا سفارت خانہ پیرس کے 16ویں ڈسٹرکٹ میں واقع ہے۔ اس علاقے میں کئی دوسرے ملکوں کے سفارت خانے بھی موجود ہیں۔طالبان کے کابل پر قبضے کے ایک سال بعد بھی فرانس میں افغانستان کا سفارت خانہ بدستور سفارتی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ یہاں پر محمد ہمایوں عزیزی بطور سفیر تعینات ہیں جن کی موجودہ حیثیت گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ایک ایسے شخص کی ہو چکی ہے جس کا کوئی وطن نہیں ہے۔ کیونکہ ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالبان نے ابھی تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جو انہوں نے دوحہ معاہدے میں کیے تھے۔ انہوں نے اس معاہدے میں خواتین اور اقلیتوں کو ان کے حقوق دینے، تمام افغان گروہوں کی نمائندہ حکومت قائم کرنے اور افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دینے کا عہد کیا تھا۔مگر طالبان کے اس ایک سالہ اقتدار میں خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم اور روزگار کے دروازے زیادہ تر بند ہیں اور انہیں گھر سے باہر نکلنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔ اقلیتیں اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ حکومت میں طالبان کے سوا کسی کی نمائندگی نہیں ہے اور یہ کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظوہری کو کابل کے مرکزی حصے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا، جو اس جانب اشارہ ہے کہ ملک میں القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروپس کے ٹھکانے موجود ہیں۔