فلاحی اسکیمات سے فائدہ نہ ملنے پر بی آر ایس امیدواروں پر عوام کی ناراضگی

   

انتخابی مہم چلانے میں حکمران جماعت کو دشواری ، عوام کو سمجھانے منانے لالچ دیا جارہا ہے
حیدرآباد ۔ یکم ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے فلاگ شپ اسکیمات کا اعلانات کرنے والی حکمران جماعت بی آر ایس کیلئے یہی اسکیمات سر درد بنتی جارہی ہیں ۔ دلت بندھو ، بی سی بندھو ، اقلیتی بندھو اور ڈبل بیڈ روم مکانات کے علاوہ دوسرے اسکیمات سے فائدہ نہ پہونچنے پر انتخابی مہم چلانے کے لیے دورے کرنے والے بی آر ایس امیدواروں سے عوام الجھ پڑ رہے ہیں کھلے عام ان کی مخالفت کررہے ہیں ۔ صرف اپنے حامیوں اور بی آر ایس کارکنوں کو ان اسکیمات سے فائدہ پہونچانے کے الزامات عائد کررہے ہیں اور انہیں ووٹ نہ دینے کی وجوہات سے واقف کرا رہے ہیں ۔ عوامی ناراضگی اور برہمی سے بی آر ایس کے امیدوار اور بی آر ایس قائدین پریشان ہیں اور عوام کو سمجھانے منانے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں یقین دلا رہے ہیں یہ ہمیشہ جاری رہنے والی اسکیمات ہیں ابھی ابھی ان اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوا ہے ۔ جنہیں ان اسکیمات سے فائدہ نہیں ہوا ہے انہیں آئندہ ضرور فائدہ پہونچایا جائے گا۔ جاریہ انتخابات میں بھی بی آر ایس پارٹی بھاری اکثریت سے تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرے گی ۔ اس کے بعد ان اسکیمات سے ضرور فائدہ پہونچایا جائے گا تاہم عوام کچھ سننے اور سمجھنے کے موقف میں نہیں ہے بلکہ ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ووٹ مانگنے کیلئے بستیوں میں نہ آنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ بی آر ایس کے قائدین عوام کے رویہ سے پریشان ہیں ۔ ارکان اسمبلی کے اہم حامیوں کی جانب سے ناراض عوام کو سمجھانے کی کوشش کرنے کے علاوہ انہیں لالچ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں بتایا جارہا ہے اسکیمات سے محروم ہونے والے عوام کا ڈائری میں نام لکھ رہے ہیں ۔ آئندہ حکومت تشکیل پاتے ہی پہلے انہیں فائدہ پہونچایا جائے گا ۔ زیادہ تر پسماندہ طبقات کے لیے مختص اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس کے امیدواروں کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔۔ ن