11 کلو میٹر سرنگ میںملبہ ہٹانے کی مساعی، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کی شخصی نگرانی، بہت جلد کامیابی کی امید
حیدرآباد۔/23 فروری، ( سیاست نیوز) ناگر کرنول ضلع میں واقع سری سیلم لفٹ بنک کنال (SLBC) کی سرنگ میں پھنسے ہوئے ورکرس کو بچانے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور فوج کی کارروائی جنگی خطوط پر جاری ہے اور عہدیداروں کو سرنگ میں داخلہ میں کامیابی حاصل ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سرنگ کا چھت منہدم ہوجانے سے دو ملازمین زخمی ہوگئے اور سرنگ میں پھنس چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں سے بچاؤ اور امدادی کام تیزی سے جاری ہیں تاکہ 8 پھنسے ہوئے ملازمین کو بحفاظت نکالا جاسکے۔ این ڈی آر ایف اور فوج کے دستے کسی طرح سرنگ میں داخل ہوچکے ہیں اور وہ پانی، کیچڑ اور ملبے کی صفائی کے ذریعہ آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ریاستی وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی اور وزیر ایکسائیز جوپلی کرشنا راؤ بچاؤ اقدامات کی راست طور پر نگرانی کررہے ہیں۔ دونوں وزراء نے سرنگ میں داخل ہوکر منہدمہ حصہ کا معائنہ کیا۔ وزراء نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی پھنسے ہوئے افراد کا پتہ چلالیا جائے گا۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی 10 ویں بٹالین کی چار ٹیموں کو سرنگ میں روانہ کیا گیا ہے۔ ناگرکرنول ضلع کے دومالاپنٹا گاؤں میں واقع سرنگ کی چھت کل اچانک منہدم ہوگئی تھی۔ این ڈی آر ایف کی دسویں بٹالین کے کمانڈر وی وی این پرسنا کمار نے کہا کہ کرشنا ضلع میں واقع ہیڈ کوارٹر سے تین ٹیموںکو روانہ کردیا گیا ہے۔ ریجنل ریسپانس سنٹر حیدرآباد کی جانب سے مختلف سرکاری اور خانگی اداروں سے اشتراک کے ذریعہ امدادی کاموں کی نگرانی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی ٹیم میں ماہرین بھی شامل ہیں جو منہدمہ ملبہ کی صفائی اور ملبہ کی کھدائی میں مہارت رکھتے ہیں، انہیں ضروری آلات فراہم کئے گئے۔ پرسنا کمار نے بتایا کہ این ڈی آر ایف کی مزید ٹیموں کو ضرورت پڑنے پر روانہ کیا جائے گا۔ اسی دوران حکام کے مطابق آج دوپہر تک بھی پھنسے ہوئے افراد کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ مشترکہ بچاؤ کاموں میں این ڈی آر ایف، فوج، نیشنل ہائی ویز اینڈ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ لمٹیڈ ، سنگارینی کالریز اور ایس ڈی آر ایف کے تقریباً 300 ارکان مصروف ہیں۔ امدادی ٹیمیں سرنگ میں 11 کلو میٹر تک پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے سرنگ میں استعمال کی جانے والی ٹرین کے ذریعہ یہ فاصلہ طئے کیا ہے۔ اس ٹرین کے ذریعہ ورکرس اور میٹریل کو منتقل کیا جاتا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق بچاؤ ٹیمیں آخری پوائنٹ تک پہنچ چکی ہیں جہاں ملبہ کی صفائی کا کام شروع کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے بچاؤ کاموں میں این ڈی آر ایف کے علاوہ فوج کو بھی شامل کیا ہے۔ سری سیلم لفٹ بنک کنال میں پہلی مرتبہ چھت کے منہدم ہونے کا واقعہ پیش آیا اور سرنگ کے تقریباً 11 کلو میٹر اندرونی حصہ میں 8 افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ ضلع کلکٹر بی سنتوش نے کہا کہ بورنگ مشینوں کے ذریعہ ملبہ کی صفائی اور پھنسے ہوئے افراد کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حیدرآباد اور وجئے واڑہ سے این ڈی آر ایف کی 4 ٹیموں میں 138 ارکان ہیں جبکہ فوج کے 24 ماہرین بچاؤ کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی جو امدادی کاموں کی شخصی طور پر نگرانی کررہے ہیں اُمید ظاہر کی کہ اتوار کی رات تک پھنسے ہوئے افراد کو بچالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے افراد کے زندہ ہونے کے امکانات اس لئے بھی بڑھ چکے ہیں کیونکہ سرنگ میں ہوا کے گذرنے کی گنجائش موجود ہے جس کے نتیجہ میں پھنسے ہوئے افراد سانس لے سکتے ہیں۔بچاؤ ٹیمیں حقیقی مقام تک رسائی حاصل کرچکی ہیں۔ پھنسے ہوئے افراد میں دو انجینئرس اور دو مشین آپریٹرس کے علاوہ چار لیبرس ہیں جن کے نام میڈیا کو جاری کئے گئے۔ ان کا تعلق جھارکھنڈ، اتر پردیش، پنجاب اور جموں کشمیر سے بتایا جاتا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بچاؤ ٹیموں کو یقین ہے کہ پھنسے ہوئے افراد اُن سے محض 100 میٹر کے فاصلے پر ہیں تاہم ان سے کوئی ربط نہیں ہوسکا اور ملبہ کی صفائی پر حقیقی صورتحال کا پتہ چلے گا۔1