نرسری تا انٹرمیڈیٹ اسکل ڈیولپمنٹ کورس ، جرمنی اور جاپان میں دو لاکھ نرسنگ ملازمتیں، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔14۔اگسٹ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نکلس روڈ پر مہاتما جیوتی با پھولے اور شریمتی ساوتری بائی پھولے کے مجسموں کی نقاب کشائی انجام دی ۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا ، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ ، ریاستی وزراء وی سری ہری ، محمد اظہرالدین، پونم پربھاکر ، کونڈا سریکھا ، گورنمنٹ وہپ اے سرینواس ، حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشو راؤ ، وی ہنمنت راؤ ، ارکان پارلیمنٹ انیل کمار یادو ، آر کرشنیا ، سریش شیٹکر ، ڈی ناگیندر ، مکھن سنگھ راج ٹھاکر ، ایم سیمویل ، نوین یادو اور اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں عدم مساوات کے خاتمہ کیلئے شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ ذات پات پر مبنی جانبداری کے نظام کو ختم کرنے کیلئے جیوتی با پھولے نے جدوجہد کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے کمزور طبقات کو دستوری حقوق فراہم کئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت تمام طبقات کو یکساں حقوق کی فراہمی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کے قیام کے ذریعہ تمام طبقات کے طلبہ کو ایک چھت کے تلے تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ سے عدم مساوات کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ تعلیمی سال سے طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت 2400 کروڑ راست طور پر طلبہ کے بینک کھاتوں میں جمع کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مستحق اور غریب طالب علم فیس ری ایمبرسمنٹ سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم پر شفافیت سے عمل کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ تعلیم کے ساتھ ہنر کی تربیت کو یقینی بنانے کیلئے نرسری تا انٹرمیڈیٹ تک نیا کورس متعارف کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نرسری سے انٹرمیڈیٹ تک طلبہ کو ناشتہ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمت کیلئے موجودہ مسابقتی دور میں تعلیمی ڈگری کافی نہیں ہے بلکہ اسکل ڈیولپمنٹ اور ہنر کے ذریعہ ہی بہتر روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنر کی کمی کے سبب آئی ٹی پروفیشنلس بھی روزگار سے محروم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اور جاپان میں نرسنگ کے دو لاکھ ملازمتیں دستیاب ہیں۔ 119 اسمبلی حلقہ جات میں ٹاٹا گروپ کے اشتراک سے اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرس قائم کئے گئے ، جہاں طلبہ کو ماہانہ 2000 روپئے اسٹائفنڈ دیا جارہا ہے ۔ گروپ I تقررات میں منتخب امیدواروں میں 60 فیصد کا تعلق پسماندہ طبقات سے ہے۔ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جس نے پسماندہ طبقات کی آبادی کا تعین کرنے کیلئے بی سی مردم شماری کا اہتمام کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی مردم شماری کے ذریعہ فلاحی اسکیمات میں پسماندہ طبقات کو مناسب حصہ داری ملے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ عوام کے سنہرے مستقبل کیلئے روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے ہیں۔1/k/b