فیفا ورلڈ کپ 2026: تاریخ کا سب سے بڑا عالمی فٹبال میلہ

   

پہلی بار 48 ٹیموں پر مشتمل نیا فارمیٹ ، پہلی مرتبہ تین ممالک کی مشترکہ طور پر میزبانی

39دن کے دوران مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائنگے

لاس اینجلس: 14 جون (ایجنسیز) دنیا کے سب سے بڑے فٹبال مقابلے، فیفا ورلڈ کپ 2026، کا آغاز ایک نئے اور تاریخی انداز میں ہورہاہے۔ پہلی بار ہے جب ورلڈ کپ میں 48 قومی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جس کے باعث یہ ٹورنامنٹ فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا عالمی مقابلہ بن گیا ہے۔ اس سے قبل ورلڈ کپ میں 32 ٹیمیں شریک ہوتی تھیں، تاہم اب ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس سے دنیا کے مزید ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی بھی ایک منفرد انداز میں کی جا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ تین ممالک مشترکہ طور پر اس عظیم مقابلے کی میزبانی کر رہے ہیں۔ یہ ممالک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا ہیں۔ ٹورنامنٹ کے مقابلے شمالی امریکہ کے 16 مختلف شہروں میں کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل میچ نیو یارک اور نیو جرسی کے علاقے میں واقع میٹ لائف اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا۔اس بار ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے، جو اب تک کسی بھی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مقابلے تقریباً 39 دن تک جاری رہیں گے اور دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کی توجہ کا مرکز بنیں گے۔ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن کی جانب سے 9 ٹیموں نے ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ ان میں جاپان، جنوبی کوریا، ایران، آسٹریلیا، سعودی عرب، قطر، عراق، اردن اور ازبکستان شامل ہیں۔ یہ ایشیائی فٹبال کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ خطے کی ریکارڈ تعداد میں ٹیمیں عالمی مقابلے میں شرکت کر رہی ہیں۔خصوصی طور پر اردن اور ازبکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر کے ایک نیا سنگ میل قائم کیا ہے۔ ان دونوں ممالک میں اس کامیابی پر زبردست جشن منایا گیا اور اسے قومی فخر کا لمحہ قرار دیا گیا۔آسٹریلیا جغرافیائی اعتبار سے اگرچہ اوشیانیا کے خطے میں واقع ہے، لیکن وہ ایشیائی کوالیفائنگ نظام کے تحت مقابلوں میں حصہ لیتا ہے اور اسی بنیاد پر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ہوا ہے۔بھارت اس مرتبہ ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا بھی عالمی مقابلے تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب ایشیا کی بڑی فٹبال طاقتیں ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے تیار ہیں۔فٹبال ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں پر مشتمل نیا فارمیٹ مقابلوں کو مزید دلچسپ اور سنسنی خیز بنا دے گا، جبکہ چھوٹے ممالک کو بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کا سنہری موقع ملے گا۔