چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سکریٹریٹ میں جائزہ اجلاس ، عہدیداروں کی رپورٹ
حیدرآباد ۔ 28 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے فیملی ڈیجیٹل کارڈ میں خاتون کو گھر کی مالک کے طور پر تسلیم کرنے اور کارڈ کے پیچھے خاندان کے دیگر افراد کے نام اور تفصیلات درج کرنے کا عہدیداروں کو مشورہ دیا۔ چیف منسٹر نے ہفتہ کو سکریٹریٹ میں فیملی ڈیجیٹل کارڈس (ایف ڈی سی) کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر عہدیداروں نے 25 تا 27 ستمبر تک راجستھان، ہریانہ، کرناٹک، مہاراشٹرا کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کئے گئے (اسٹڈی) مطالعہ پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا۔ عہدیداروں نے متذکرہ ریاستوں کی جانب سے حاصل کردہ تفصیلات، کارڈس کے فائدے اور نقصانات کے بارے میں معلومات فراہم کی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فیملی ڈیجیٹل کارڈ کے ڈیزائن پر عہدیداروں کو ہدایات اور احکامات جاری کئے۔ موجودہ راشن، راجیو آروگیہ شری، آئی ٹی، زراعت اور دیگر فلاحی اسکیمات کے اعدادوشمار کی بنیاد پر خاندانوں کا تعین کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسری ریاستوں کے کارڈس کے ڈیزائن اور اجرائی کے بہترین معلومات کو اپنانے اور نقائص کو دور کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ بینک کھاتوں اور پیان کارڈس جیسے غیرضروری معلومات کو حاصل نہ کرنے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ فیملی ڈیجٹل کارڈس میں شامل کئے جانے والی تمام تفصیلات اتوار کی شام تک رپورٹ کی شکل میں ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، پی سرینواس ریڈی، دامودھر راج نرسمہا پر مشتمل کابینی سب کمیٹی کو پیش کریں۔ کابینہ کی سب کمیٹی کی جانب سے اندراج اور اخراج کے تعلق سے جو بھی فیصلہ کرے گی اس کے مطابق کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی۔ بعدازاں ریاست کے 19 اسمبلی حلقوں میں ایک شہری اور ایک دیہی علاقوں کا پائلیٹ پراجکٹ کے طور پر انتخاب کرنے کا مشورہ دیا۔ خاندانوں کی شناخت اور فیملی ڈیجیٹل کارڈس کی تفصیلات سے متعلق دستیاب اعدادوشمار کی بنیاد پر 3 اکٹوبر سے پائلیٹ پراجکٹ کے طور پر منتخب کئے گئے علاقوں میں فیلڈ لیول کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس کام کیلئے دیہی علاقوں میں ہر اسمبلی حلقہ کیلئے ایک آر ڈی او اور شہری علاقوں میں زونل کمشنر سطح کے آفیسر کو بحیثیت نگران مقرر کرنے کی ہدایت دی۔2