ریجنل رنگ روڈ سے انفراسٹرکچر سہولتوں میں بہتری، ڈاؤس میں ریونت ریڈی کا سی آئی آئی اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔/22 جنوری،( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت حیدرآباد کی فیوچر سٹی کو دنیا کی بہترین اربن موبیلٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور عالمی سطح کے اداروں کے قیام کے ذریعہ ٹکنالوجی کے مختلف شعبہ جات میں ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ریونت ریڈی ڈاؤس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر کانفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (CII) کی جانب سے صنعت کاروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے ٹکنالوجی کی ترقی کے تحت انفارمیشن ٹکنالوجی، آرٹیفیشل انٹلیجنس اور اسکل ڈیولپمنٹ جیسے شعبہ جات کا ترجیحی بنیادوں پر انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ کم لاگت اور آلودگی سے پاک ماحول حکومت فراہم کرے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کسی بھی شہر کے مستقبل کا اندازہ آئندہ دس تا بیس سال میں عوام کے معیار زندگی سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربن موبیلٹی شہروں کی ترقی اور تابناک مستقبل کی بنیاد ہے۔ اقوام کی ترقی شہروں کی ترقی پر منحصر ہے لہذا اربن موبیلٹی کے تحت دیرپا استحکام اور بہتر ماحولیاتی صورتحال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاؤس میں گذشتہ سال تلنگانہ حکومت نے سرمایہ کاری کے سلسلہ میں کئی معاہدات کئے تھے اور جاریہ سال بھی تلنگانہ میں ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا نشانہ مقررکیا ہے۔ حیدرآباد شہر کی آبادی 12 ملین سے زائد ہے اور یہ تیز رفتار ترقی کا شہرہے۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد میٹرو کو 100 کلو میٹر تک توسیع دینے کے علاوہ رنگ روڈس کی تعمیر کے منصوبوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے اطراف تقریباً 160 کلو میٹر رنگ روڈ ہے لیکن تلنگانہ حکومت 360کلو میٹر پر مبنی ریجنل رنگ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ریاست کے تمام بڑے شہروں اور مواضعات کو مربوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کے اطراف ریجنل رنگ ریلوے پراجکٹ کا منصوبہ ہے تاکہ عوام سڑک اور ریلوے دونوں ذرائع کا بہتر استعمال کرسکیں۔ ریڈیل روڈس کو ریجنل رنگ روڈ سے مربوط کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ڈرائی پورٹ کے قیام کا منصوبہ ہے تاکہ قریبی مچھلی پٹنم پورٹ سے مربوط کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حیدرآباد میں تمام بسوں کو الیکٹرک سے تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے اور تقریباً 3000 آر ٹی سی بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت نے روڈ ٹیکس اور رجسٹریشن چارجس سے استثنیٰ دیا ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں سب سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں تلنگانہ میں فروخت ہورہی ہیں۔ چیف منسٹر نے صنعت کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ تلنگانہ کے 40 ملین سے زائد عوام ترقی اور بھلائی میں حصہ داری نبھائیں۔1