قبرستان و شمشان کیلئے اندرون 6 ماہ اراضیات کی تخصیص

,

   

Ferty9 Clinic

دیہی علاقوں میں ترقیاتی فنڈز میں رکاوٹ نہیں : چیف منسٹر چندر شیکھر راو کا خطاب
حیدرآباد۔3ستمبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے گرام پنچایت اور دیہی علاقوں کے ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈس جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور 500 نفوس پر مشتمل آبادی والے دیہی علاقوں کیلئے 8لاکھ روپئے ترقیاتی فنڈ جاری کیا جائیگا ۔ چیف کے چندر شیکھر راؤ نے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے 60روزہ منصوبہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں اقدامات پر اجلاس کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں دیہی علاقوں اور گرام پنچایت کو ترقی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام مواضعات میں اندرون 6ماہ قبرستان اور شمشان گھاٹ کیلئے اراضیات کی تخصیص عمل میں لائی جائیگی کیونکہ بیشتر مواضعات سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ دیہی علاقوں میں شجرکاری مہم میں لگائے پودوں میں 85 فیصد پودوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اقدامات کی ہدایات دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو بروقت مکمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے

اور ناکام عہدیداروں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ریاست کے تمام مواضعات میں مشن بھگیریتا کے تحت پینے کے پانی کی سربراہی کو ممکن بنانے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ ان کا جائزہ لینے کیلئے 100 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان ٹیموں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اندرون 30اپنی رپورٹ پیش کرکے اپنی تجاویز پیش کریں۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاست میں ہریتا ہرم کے ذریعہ حکومت نے شجرکاری کے فروغ کو یقینی بنانے اقدامات کئے ہیں ۔انہو ںنے کہا کہ جن علاقوں کے علاوہ بلدیات میں شجرکاری کے اثرات نمایاں نظر نہیں آئیں گے ان کے عہدیداروں و عوامی نمائندوں کو منفی نشانات دیئے جائیں گے کیونکہ حکومت کے یہ پروگرام ریاست اور عوام کے مفاد میں ہیں اورشجرکاری کے بعد ان کی حفاظت کو یقینی بنانا مقامی عوام اور عہدیداروں کی ذمہ داری ہے اسی لئے انہیں اس بات کی تاکید کی جارہی ہے کہ وہ اس کام کو مکمل ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔