بیگم بازار میں کشیدگی، صدرنشین وقف بورڈ کا اعلیٰ عہدیداروں سے ربط
حیدرآباد: بیگم بازار میں مسلم قبرستان کی اراضی پر ٹائلٹس کی تعمیر کی کوششوں کو صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے روک دیاہے۔ گزشتہ دو دنوں سے بیگم بازار میں فیل خانہ کے قریب واقع قبرستان کی اراضی پر مقامی بی جے پی کارپوریٹر اور ان کے حامی پبلک ٹائلٹس تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے قبرستان کی حصار بندی میں مصروف لیبرس کو کل حراست میں لے لیا تھا۔ آج صبح سے علاقہ میں صورتحال کشیدہ دیکھی گئی۔ بی جے پی کارکن کثیر تعداد میں جمع ہوگئے اور تعمیری کام شروع کرنے پر مصر تھے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی افراد جمع ہوگئے اور تعمیری کاموں کی مخالفت کی ۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں کی ٹیموں کو روانہ کیا۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد قاسم بھی بیگم بازار پہنچے اور پولیس عہدیداروں سے بات چیت کی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کمشنر پولیس انجنی کمار ، کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار اور دیگر عہدیداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے قبرستان کے تحفظ پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وقف گزٹ 1984 ء کے تحت قبرستان موجود ہے جس کے تحت 2090 مربع گز اراضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبرستان کی اراضی پر کسی بھی تعمیری کام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ محمد سلیم نے پولیس بلدی عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیری کام روکتے ہوئے قبرستان کی حصار بندی کی اجازت دیں۔ شام تک بھی علاقہ میں کشیدگی دیکھی گئی۔ پولیس اور دیگر محکمہ جات نے ٹائلٹس کے تعمیری کام کو روک دیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ قبرستان کا تحفظ کیا جائے گا اور باؤنڈری وال کے ساتھ گیٹ نصب کی جائے گی۔