تمہارا مددگار تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (پاک) ہے اور ایمان والے ہیں جو صحیح صحیح نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیا کرتے ہیں اور (ہر حال میں) بارگاہِ الٰہی میں جھکنے والے ہیں۔(سورۃ المائدہ ۔ ۵۵)
پہلے دشمنان اسلام سے دوستی اور محبت کرنے سے روکا گیا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ مسلمان کس سے محبت وپیار کریں۔ کسے اپناناصر اور مددگار بنائیں؟ فرمایا تمہارا دوست اور مددگار اللہ تعالیٰ، اس کا رسول اور وہ مومن ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں بلکہ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَیعنی نہایت خشوع وخضوع سے عبادت الٰہی میں مشغول ومنہمک رہتے ہیں۔ کسی فقیر کو حقارت کی نظر سے مت دیکھ ۔ ہو سکتا ہے کہ تو ذلیل ہوجائے اور زمانہ اس کو سر بلند کر دے۔ اسی طرح وَارْكَعِيْ مَعَ الرَّاكِعِيْنَمیں بھی رکوع سے عاجزی اور انکساری ہی مراد ہے۔ کیونکہ یہ رکوع جو ہم نماز میں کرتے ہیں وہ پہلی اُمتوں میں نہیں تھا۔ اس صورت میں یہ جملہ حال ہوگا۔ اور نماز پڑھنے والے ، زکوٰۃ دینے والے ایماندارِ ذوالجلال ہوں گے۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ آیت حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حق میں نازل ہوئی ۔ ہوایوں کہ ایک سائل نے آکر سوال کیا۔ آپ اس وقت حالت رکوع میں تھے آپؓ نے اپنی انگوٹھی اُتار کر اُسے دے دی۔ بعض صاحبان نے اس آیت سے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت بلا فصل پر استدلال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لفظ ولی سے مراد یہاں متصرف فی الامور یعنی امام اور خلیفہ ہے اور اِنَّمَا حصر کا کلمہ ہے تو آیت کا مطلب ہوا کہ تمہارے اُمور میں تصرف کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ، اُس کا رسول پاک اور وہ مومن ہیں جنہوں نے رکوع کی حالت میں خیرات دی ہو۔