حیدرآباد :۔ قلعہ گولکنڈہ پر توجہ دینے کے لیے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کو توجہ دلائی جانے کے صرف دو ہفتے بعد اے ایس آئی نے قلعہ گولکنڈہ میں حالیہ شدید بارش سے متاثر ہونے والے علاقوں کی مرمت شروع کرنے کا پروگرام بنایا ہے ۔ اس مرکزی ادارہ نے قلعہ میں خلوت ایریا اور رانی محل کے عقبی حصہ میں مرمتی کام شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ جو دیواریں گر گئی ہیں انہیں بھی پھر اصلی حالت میں لایا جائے گا تاکہ اس عمارت کی مضبوطی برقرار رہے ۔ قلعہ کی دیوار کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے پتھروں کو نکال دیا جائے گا ۔ اکٹوبر میں شدید بارش کے باعث قلعہ گولکنڈہ کی تقریبا 20 فیٹ اونچی ایک دیوار کا حصہ گر گیا تھا ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ، جس نے اس سلسلہ میں ٹنڈر طلب کئے ہیں ۔ اس پراجکٹ کو آئندہ چار تا چھ ماہ میں مکمل کرنے کا پروگرام بنایا ہے ۔ اے ایس اے کی جانب سے نیا قلعہ کے مجنو برج کی بھی تعمیر و مرمت کی جائے گی جو شدید بارش کی وجہ گر گیا ہے ۔ اس مرکزی ادارہ کی جانب سے پہلے ایک بڑی توپ کو منتقل کیا جائے گا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے 1687 میں قلعہ گولکنڈہ پر گولا باری کے لیے اس توپ کا استعمال کیا تھا ۔۔