قیمتوں میں مسلسل اضافہ ، عوام کی خاموشی پر معاشی بدحالی ممکن

   

ملازمتوں ، تنخواہوں سے محروم افراد کے لیے گراں بار ، کالا بازاری سے اشیاء کی قلت ، آواز اٹھانے والا کوئی نہیں
حیدرآباد۔ قیمتوں میں اضافہ پر عوام کی خاموشی انہیں کنگال بنا دے گی ۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے محکمہ اوزان و پیمائش ماضی قریب میں مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے تعین کا فیصلہ کیا کرتا تھا اور کسی بھی شئے کی قیمت میں اضافہ کے لئے مذکورہ محکمہ کی اجازت لازمی ہوا کرتی تھی لیکن کوروناو ائرس لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی جانب سے بھاری قیمتوںمیں اشیائے ضروریہ وہ غیر ضروری چیزوں کی بھاری قیمت کی ادائیگی کے ذریعہ خریدی کے بعد اب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا جانے لگا ہے لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ پر کوئی آواز اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران سگریٹ‘ شراب اور اس طرح کی دیگر اشیاء کی خریدی کیلئے اس نشہ کے عادی افراد نے دوگنی سے زیادہ قیمتیں ادا کرتے ہوئے حاصل کی تھیں لیکن اس صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اب کمپنیوں کی جانب سے ان کی اپنی اشیاء میں اضافہ کیا جانے لگا ہے اور اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ سگریٹ اور شراب کے عادی افراد اپنی ضرورت کی تکمیل قیمتوں میں اضافہ کے باوجود کرتے ہیں اس کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہوتا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتو ںمیں بھی بے تحاشہ اضافہ کیا جائے اور عوام مجبوری کی حالت میں یہ قیمتیں ادا کرتے رہیں۔ لاک ڈاؤن میں رعایتوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ جیسے تیل‘ چاول ‘ دالوں کے علاوہ املی اور پیاز کی قیمتو ںمیں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے لیکن اس مسئلہ پر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے ۔

لاک ڈاؤن کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے سبب ملک بھر میں لاکھوں نوجوان ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں اور جو ملازمت کر رہے ہیں ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جا رہی ہے لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ سے ان کے جائز اخراجات میں بھی 20تا30 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد میں ٹھوک تاجرین کا کہناہے کہ جب قیمتو ںمیں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے تو ایسی صورت میں ہی وہ قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ریٹیل تاجرین سے استفسار پر یہ کہا جارہا ہے کہ انہیں جو قیمت میں اشیاء وصول ہورہی ہیں اس پر وہ اپنا منافع رکھتے ہوئے فروخت کر رہے ہیں لیکن ان حالات میں شہریوں کی جیب پر جو اثر پڑرہا ہے تو اس کی کسی کو کو ئی پرواہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت اور محکمہ اوزان و پیمائش کی جانب سے کالا بازاری اور قیمتوں میں اضافہ کو روکنے کے کوئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ تیل ‘ دال‘ چاول‘ پیاز ‘ املی کے علاوہ حیدرآباد میں ترکاریوں کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے جو کہ موجودہ حالات میں عام آدمی کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں تاجرین کا کہناہے کہ ڈیزل کی قیمت میں ہونے والے اضافہ کے سبب اشیائے ضروریہ کی قیمتوںمیں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔