حیدرآباد۔/26 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو اور مرکزی وزیر کوئلہ و کانکنی جی کشن ریڈی نے آج حیدرآباد میں بائیو ایشیا 2025 کانفرنس کی اختتامی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے شریک اداروں کے نمائندوں کو مبارکباد پیش کی۔ بائیو ایشیا 2025 کو کامیاب قرار دیتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ یہ تاریخی سمٹ تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لائف سائنسیس اور ہیلت کیر ایکو سسٹم میں تلنگانہ عالمی سطح پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ سمٹ میں دنیا بھر سے 4000 سے زائد مندوبین نے شرکت کی جن کا تعلق فارما، ہیلت کیر انڈسٹری اور دیگر شعبہ جات سے ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ فارما اور ہیلت کیر شعبہ جات کے موجودہ چیلنجس پر 100 سے زائد ماہرین نے تبادلہ خیال کیا۔200 سے زائد بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کے ذریعہ گذشتہ سال کے مقابلہ زائد سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا۔ امریکی بائیو ٹکنالوجی کمپنی ایمجن نے سرمایہ کاری کے ذریعہ 3000 نئی ملازمتوں کی فراہمی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور اسکل ڈیولپمنٹ کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں نوجوانوں کی حصہ داری میں اضافہ کیا جائے گا۔84 اسٹارٹس اپ نے اپنی جدید تخلیقات پیش کی جو سماجی مسائل کے حل کیلئے کارآمد ثابت ہوں گی۔ تلنگانہ حکومت اسٹارٹس اپ اور نئی اختراعات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ تلنگانہ کو عالمی معیار کی انسانی صلاحیتوں کا عالمی مرکز بنانا حکومت کا مشن ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ سنتھیٹک آرگینک کیمسٹری کا خصوصی کورس چار سرکردہ صنعتی اداروں کے اشتراک سے شروع کیا گیا اور پہلے بیاچ میں 140 طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ سمٹ کے اختتام کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزیر سریدھر بابو نے کہا کہ تلنگانہ حکومت عنقریب لائف سائنسیس پالیسی کو کابینہ میں منظوری دے گی۔ ملک میں یہ اپنی نوعیت کی منفرد پالیسی رہے گی جس کے تحت لائف سائنسیس یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ 1
یونیورسٹی کے مقام کا عنقریب اعلان کیا جائے گا۔ سریدھر بابو نے کہا کہ تلنگانہ دنیا بھر میں فارما انڈسٹری کے مرکز کے طور پر اپنی شناخت بناچکا ہے۔ بین الاقوامی فارما کمپنیاں تلنگانہ کا رخ کررہی ہیں۔1