نرمی کے اوقات کی مکمل ویڈیو گرافی کی جائے، سرحد پر ایمبولنس گاڑیوں کو نہ روکا جائے، خانگی ہاسپٹلس کے خلاف کارروائی کی ہدایت، ادویات کی زائد قیمت پر فروخت پر ناراضگی
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے اچانک لاک ڈاؤن کے نفاذ کے فیصلہ پر اعتراض جتایا۔ ہائی کورٹ کو دوپہر کی سماعت کے آغاز پر جب حکومت کے لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ کی اطلاع دی گئی تو چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی نے کہا کہ آج صبح 10 بجے تک حکومت ویک اینڈ لاک ڈاؤن کے حق میں بھی نہیں تھی لیکن اچانک کل سے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اس فیصلہ سے دیگر ریاستوں کے عوام کم وقت میں کس طرح اپنے علاقوں کو واپس ہوسکیں گے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ جس طرح گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں مائیگرنٹ ورکرس کو مشکلات پیش آئی تھیں اس مرتبہ اس طرح کی کوئی مشکلات پیش نہ آئے۔ عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ روزانہ محنت مزدوری کرنے والے افراد اور مائیگرنٹ لیبرس کیلئے حکومت کیا اقدامات کررہی ہے۔ 50فیصد تک مائیگرنٹ ورکرس اپنے طور پر وطن واپس ہوچکے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران شام کے اوقات میں کوئی نرمی دی گئی ہے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ شام کے وقت میں کوئی نرمی نہیں رہے گی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے لائف سیونگ ڈرگس کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کیلئے عدالت سے تین دن کا وقت مانگا ہے۔ عدالت نے برہمی کے انداز میں کہا کہ کیا اس وقت عوام اپنی زندگی گنواتے رہیں گے۔ حکومت کو ہدایت دی گئی کہ زائد قیمت پر ادویات کی فروخت اور خانگی ہاسپٹلس میں زائد بلز کی وصولی کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ ساری دنیا میں عوام کورونا سے پریشان ہیں ان حالات میں ہاسپٹلس کی جانب سے زائد بلز کی وصولی افسوسناک ہے۔ عدالت نے حیدرآباد، سائبرآباد اور رچہ کنڈہ کمشنریٹس کو ہدایت دی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے اوقات کی مکمل ویڈیو گرافی کی جائے۔ ہر پولیس اسٹیشن کے حدود میں نرمی کے دوران کوویڈ قواعد پر عمل آوری کا جائزہ لینے کیلئے ویڈیو گرافی کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ نرمی کے دوران عوام کو کوویڈ قواعد پر عمل آوری کا پابند بنایا جائے۔ عدالت نے تلنگانہ کی سرحد پر ایمبولنس گاڑیوں کو نہ روکنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایمبولنس گاڑیوں کو روکنے کیلئے کیا حکومت کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ اس طرح کے کوئی تحریری احکامات نہیں ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ کیا کوئی زبانی احکامات جاری کئے گئے۔ جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے چیف سکریٹری سے معلومات حاصل کرکے جواب دینے کا تیقن دیا۔ عدالت نے کہا کہ نئی دہلی میں مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مریض علاج کیلئے پہنچ رہے ہیں لیکن وہاں ایمبولنس کو نہیں روکا جارہا ہے۔ عدالت نے ناراضگی جتائی کہ ایسے وقت جبکہ لوگ وائرس سے مررہے ہیں سرحد پر ایمبولنس کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ سابق میں ہدایت کے باوجود موبائیل ٹسٹنگ پر عمل نہیں کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ حیدرآباد میڈیکل ہب ہے اور علاج کیلئے کئی افراد رجوع ہوتے ہیں۔ عوام کو علاج سے روکنے کا حکومت کو کیا حق پہنچتا ہے۔ ہاسپٹل پہنچنے والے افراد کو کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیئر اور اپولو جیسے دواخانوں میں بین الاقوامی مریض بھی موجود رہتے ہیں کیا انہیں بھی حکومت کی جانب سے روکا جائے گا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا اور کرناٹک سے آر ایم پی پرسکرپشن کے ساتھ مریضوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔ عدالت کو ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کابینی اجلاس میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔