چیف منسٹر کے بیانات گمراہ کن، سابق وزیر محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔کانگریس پارٹی نے حکومت پر لاک ڈاؤن کے معاملہ میں عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے انتہائی کم وقت میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کیلئے حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت پر سخت ریمارک کئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ابتدا سے ہی کورونا سے نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت دی لیکن چیف منسٹر کے سی آر ، اسوقت کے وزیر صحت ای راجندر اور چیف سکریٹری سومیش کمار نے یہ کہتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا کہ کورونا کی صورتحال قابو میں ہے اور کرفیو یا لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نائیٹ کرفیو نافذ کیا تھا اور اب دس روزہ لاک ڈاؤن کا اچانک اعلان کردیا گیا جس کے نتیجہ میں عوام کو تیاری میں دشواریاں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچانک لاک ڈاؤن کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کو عادت ہوچکی ہے کہ وہ عوام کو تاریکی میں رکھتے ہیں۔ کورونا کی صورتحال کے بارے میں چیف منسٹر ہمیشہ جھوٹے بیانات دیتے رہے ہیں۔ کیسس میں اضافہ کے باوجود صورتحال کو قابو میں دکھایا گیا۔ کے سی آر نے یہاں تک کہا تھا کہ کورونا کا واحد علاج پیراسیٹامول ٹائبلیٹ ہے۔ کانگریس لیڈر نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام بی پی ایل خاندانوں اور متوسط خاندانوں کو لاک ڈاؤن کے دوران مالی امداد فراہم کرے۔ حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات کرے اور سرکاری دواخانوں میں علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں۔ محمد علی شبیر نے کورونا کو آروگیہ سری کے تحت شامل کرتے ہوئے مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کورونا سے فوت ہونے والے افراد کے پسماندگان کو ایکس گریشیا کا مطالبہ کیا ہے۔