لاک ڈاون نرمی کے نام پر حکومت نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا

   

عملا نظر انداز کرنے کی پالیسی ۔ پولیس عملہ میں بھی عوام سے دوری اختیار کرنے کے رجحان میں اضافہ

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔4جون۔حکومت تلنگانہ نے عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے!ریاست میں کورونا وائرس مریضوں کی بڑھتی تعداد کا جائزہ لینے اور حکومت کے اقدامات سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے کیونکہ حکومت اب مزید لاک ڈاؤن برداشت کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ شہریو ںکو ان کے حال پر چھوڑ دینے کا فیصلہ حکومت کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ حکومت نے رعایتوں و راحت کے نام پر جو اقدامات کئے ہیں اور سماجی فاصلہ کی برقراری کی دھجیاں اڑائی جانے کے باوجود خاموشی اختیار کی جا رہی ہے وہ سنگین حالات پیدا کرنے کا مؤجب بن سکتی ہے۔ حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران جو ماحول تیار کیا تھا اس کے ذریعہ عوام میں کورونا کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اچانک حکومت نے اپنے موقف میں تبدیلی لا کر یہ کہنا شروع کردیا کہ کورونا کے ساتھ زندگی گذارنے کے طریقہ سیکھنے اور ان پر عمل کی ضرورت ہے ۔ حکومت کے موقف میں تبدیلی کے متعلق عہدیدارو ںکا کہناہے کہ معاشی ابتری سنگین مسئلہ ہے اور لاک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کو ممکن بنایا جاسکتا ہے اسی لئے حکومت سے کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گذارنے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ کورونا وبا کے ساتھ زندگی گذارنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بازارو ںمیں ہجوم کی جانب سے سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھے جانے کے سلسلہ میں پولیس حکام کا کہناہے کہ ان حالات میں سوائے تصویر کشی کے ذریعہ چالان کرنے کے کوئی راستہ نہیں ہے اور بلدیہ حیدرآباد کا کہناہے کہ وہ حکومت کے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ کورونا مریضوں کی بڑھتی تعداد پر سوال کے جواب میں یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کورونا وائرس کے 1لاکھ مریضوں کی نگہداشت کے موقف میں ہے اور ریاست میں 5ہزار وینٹیلیٹرس کو تیار رکھا گیا ہے ۔ عوام کے سنجیدہ طبقات حکومت سے استفسار کر رہے ہیں کہ حکومت نے لاک ڈاؤن کس لئے کیا تھا!مریضوں کی تعداد میں اضافہ سے روکنے یا کورونا سے نمٹنے طبی نگہداشت کو بہتر بنانے ! لاک ڈاؤن میں جو احتیاطی اقدامات کئے جا رہے تھے اب وہ نہیں کئے جا رہے ہیں۔

کورونا اموات کے باوجود ان مکانات کو کنٹینمنٹ زون قرار نہ دئیے جانے کے علاوہ نظر انداز کی پالیسی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔دونوں شہروں کے علاوہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور محلہ جات میں کوئی پابندی نہ ہونے سے جو حالات پیدا ہورہے ہیں وہ شہریوں اور حکومت کیلئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ بازاروںمیں ہجوم و رہنمایانہ خطوط پر عدم عمل آوری پر کہا جار ہاہے کہ رعایت کے درمیان اگر پابندیاں عائد کی جاتی رہیں گی تو مسائل پیدا ہوں گے اس لئے عہدیدار ان مسائل سے نمٹنے کوئی اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عہدیداروں اور اہلکاروں کو بھی اب کورونا کا خوف ہونے لگا ہے اسی لئے وہ عوام سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بلدی عملہ بھی صفائی مہم پر اکتفاکر رہا ہے اور محکمہ صحت کے عہدیداربھی عثمانیہ میڈیکل کالج میں کورونا مریضوں کی تعداد سے پریشان ہیں ۔ شہر کے کئی محلہ جات میں مریضوں کی توثیق کے باوجود قرنطینہ کے اقدامات نہ کرنے سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے خدشات ہیں اور عوام کورونا سے اموات اور مریضوں کو نظر انداز کئے جانے پرناراضگی کا اظہار کرنے لگے ہیں اور حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جا نے لگے ہیں۔