بیروت: لبنان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق شام اور فلسطین نواز عسکری گروپ کے پانچ جنگجو چہارشنبہ کے روز ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثاتی دھماکہ مشرقی لبنان میں تنظیم کی ٹھکانے میں ہوا۔عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی جنرل کمان کے ترجمان نے الزام عاید کیا ہے کہ یہ دھماکہ حادثہ نہیں بلکہ شامی سرحد کے قریب قصیہ کے علاقے میں گذشتہ شب چھاپہ مار کارروائی کے دوران کی جانے والی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ اسرائیل نے اس چھاپے میں اپنی شرکت سے متعلق خبروں کی صحت سے انکار کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کو معلوم فراہم کی مینڈیٹ نہ رکھنے والے سکیورٹی ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلحہ ڈپو میں ایک پرانا راکٹ پھٹنے سے مزاحمت کاروں کے ٹھکانے میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔شام میں موجود تنظیم کے بشارالاسد حکومت اور ان کے لبنانی اتحادی حزب اللہ سے قریبی روابط ہیں۔ تنظیم کی لبنان کے علاقے وادی بعقہ میں ٹھکانے بھی موجود ہیں۔ جنرل کمان پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے ترجمان انور راجہ نے بتایا کہ ٹھکانے پر اسرائیل نے کل رات حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کارروائی میں پانچ جنگجو ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ انہوں نے چھاپے کی کوئی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ اسرائیلی فوج نے تاہم ہلاکت خیز دھماکے میں ملوث ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ 2019 میں مشتبہ اسرائیلی حملوں میں عمومی کمان برائے عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے قصیہ چیپٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جولائی 2015 میں بھی تنظیم کی قصیہ بیس میں ہونے والے دھماکے میں سات افراد زخمی ہوئے جبکہ فلسطینی تنظیم نے اس حملے کا الزام اسرائیلی فضائی حملے پر لگایا تھا۔