آبادی کے بجائے مالیاتی شراکت داری پر حد بندی کا مطالبہ ،مرکز انعام کے بجائے جرمانہ عائد
حیدرآباد۔ 26 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے تارک راما راؤ، چیف منسٹر تملناڈو و ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اِسٹالن کی جانب سے حلقوں کے ازسرنو حد بندی کے تعلق سے کئے گئے ریمارکس کی بھرپور تائید و حمایت کی۔ آبادی پر کنٹرول کے متعلق مرکزی حکومت کے قواعد پر جنوبی ہند کی ریاستوں میں سختی سے عمل آوری کی ہے جس پر جنوبی ریاستوں کو انعام ملنے کے بجائے مودی حکومت کی جانب سے حلقوں کی ازسرنو حد بندی میں ناانصافی کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا جارہا ہے جس کی بی آر ایس پارٹی سختی سے مذمت کرتی ہے۔ ازسرنو حد بندی کا عمل شروع کرنے سے قبل مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ جنوبی ریاستوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے پیشرفت کرے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کی رائے کو خاطر میں لائے بغیر حدبندی کو نافذ کرنا جمہوریت اور وفاقیت کی روح کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت حد بندی کو لاگو کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو ملک میں مالیاتی شراکت کی بنیاد پر حد بندی کرنے کا مطالبہ کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ اور جنوبی ریاست میں قوم کی تعمیر میں اہم رول ادا کررہی ہیں جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مثال کے طور پر تلنگانہ کا ملک کی آبادی میں صرف 2.8 فیصد حصہ ہے، لیکن یہ ملک کی جی ڈی پی میں 5.2 فیصد سے زائد کا حصہ فراہم کررہا ہے۔ چیف منسٹر تملناڈو اِسٹالن نے اس مسئلہ پر 5 مارچ کو کُل جماعتی اجلاس طلب کرنے اور اس میں 40 سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنے کا اعلان کیا ہے۔کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے دورۂ دہلی پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ بھی بے فیض ثابت ہوگا۔ ریونت ریڈی نے 36 مرتبہ دہلی کا دورہ کیا جس سے تلنگانہ کو 3 روپئے تک بھی حاصل نہیں ہوئے۔ ایس سی بی سی سرنگ میں 8 مزدور 96 گھنٹوں سے پھنسے ہوئے ہیں، انہیں محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کیلئے توجہ دینے کے بجائے چیف منسٹر پہلے انتخابی مہم میں مصروف تھے، اب دہلی کے دورہ پر ہیں۔ 2