لوک سبھا ٹکٹ کیلئے خواہشمند قائدین سے درخواستوں کی طلبی

   

3 فروری آخری تاریخ، کئی سینئر کانگریس قائدین ٹکٹ کے دعویداروں میں شامل
حیدرآباد۔/31 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں کیلئے کانگریس کی جانب سے درخواستوں کی وصولی کا آج سے آغاز ہوگیا۔ تنظیمی امور کے انچارج ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ کے مطابق 3 فروری کی شام تک درخواستیں قبول کی جائیں گی۔ ایس سی، ایس ٹی اور معذور درخواست گذاروں کو اپنی درخواست کے ساتھ 25 ہزار روپئے کا ڈی ڈی جمع کرانا ہوگا جبکہ دیگر زمرہ جات کے امیدواروں کو فی کس 50 ہزار روپئے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ داخل کرنا ہوگا۔ درخواست فارم پردیش کانگریس کمیٹی کی ویب سائیٹ پر آن لائن بھی دستیاب ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد لوک سبھا نشستوں کے امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کئی سینئر قائدین جنہیں اسمبلی چناؤ میں ٹکٹ سے محروم کیا گیا وہ بھی لوک سبھا چناؤ میں مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ڈبل ڈیجیٹ نشستوں پر کامیابی کا منصوبہ بنایا ہے اور امیدواروں کے انتخاب کا معاملہ سنٹرل الیکشن کمیٹی پر چھوڑ دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواستوں کے ادخال کی تکمیل کے بعد حیدرآباد میں الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا اور ہائی کمان کو ناموں کی سفارش کی جائے گی۔ سنٹرل الیکشن کمیٹی اور اسکریننگ کمیٹی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دے گی۔ پارٹی نے ریاستی وزراء کو مختلف اسمبلی حلقہ جات کا انچارج کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے۔ تمام وزراء کو اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر اجلاس منعقد کرتے ہوئے کارکنوں کو متحرک کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں تلنگانہ حکومت کے نمائندے ڈاکٹر ملوروی نے لوک سبھا حلقہ ناگرکرنول کیلئے آج اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ کھمم لوک سبھا حلقہ سے سابق صدر کانگریس سونیا گاندھی کو مقابلہ کی دعوت دی گئی ہے، ان کے مقابلہ نہ کرنے کی صورت میں وی ہنمنت راؤ، رینوکا چودھری اہم دعویدار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کھمم سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی اور تملا ناگیشورراؤ کی جانب سے تیسرے نام کی سفارش کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کامیابی کی ضمانت بننے والے قائدین کو ٹکٹ دینے کی سفارش کی ہے۔ کئی لوک سبھا حلقہ جات میں ٹکٹ کے دعویداروں میں مسابقت دیکھی جارہی ہے۔1