( لوک سبھا کیلئے کانگریس کی تیاریاں شروع )

   

سنیل کونگلو کی ریونت ریڈی سے ملاقات،وعدوں پر عمل آوری کا جائزہ لیا
لوک سبھا میں کامیابی کیلئے وعدوں کی تکمیل اہمیت کی حامل، کمزور مالی موقف کے باوجود عوام کا دل جیتنے چیف منسٹر کو مشورہ، اقلیتوں اور کمزور طبقات پر توجہ
حیدرآباد۔/24 جنوری، ( سیاست نیوز) کانگریس نے تلنگانہ میں لوک سبھا چناؤ کی تیاریوں کو تیز کردیا ہے۔ اسمبلی چناؤ میں کامیاب حکمت عملی کے ذریعہ کانگریس کو اقتدار تک پہنچانے والے سنیل کونگلو آج تلنگانہ سکریٹریٹ پہنچ گئے۔ سکریٹریٹ میں سنیل کونگلو کی آمد نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے اور سکریٹریٹ کے عہدیدار بھی انتخابی حکمت عملی کے ماہر کی آمد پر حیرت میں پڑ گئے۔ سنیل کونگلو نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور حکومت کے 50 دن کی تکمیل پر کارکردگی سے متعلق عوامی ردعمل جاننے کی کوشش کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سنیل کونگلو نے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے موقف کا جائزہ لیا کیونکہ لوک سبھا چناؤ میں 6 ضمانتوں کی کامیاب تکمیل کے ذریعہ ہی عوامی تائید حاصل کی جاسکتی ہے۔ ریونت ریڈی سے سنیل کونگلو کی ملاقات کے دوران حکومت کی تشکیل کے بعد ریاست کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف منسٹر نے 2 ضمانتوں پر عمل آوری کے آغاز اور آئندہ ماہ سے 3 ضمانتوں کی تکمیل کے منصوبہ سے واقف کرایا۔ کسانوں کو رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت امداد کی اجرائی، غریبوں کو 200 یونٹ مفت برقی کی سربراہی، آسرا پنشن کی رقم میں اضافہ، اندراماں اینڈلو کے تحت مکانات کی تعمیر پر 5 لاکھ کی امداد اور دیگر زیر التواء وعدوں کے بارے میں سنیل کونگلو نے وضاحت طلب کی۔ چیف منسٹر نے سنیل کونگلو کو بتایا کہ بیک وقت تمام ضمانتوں اور انتخابی وعدوں پر عمل آوری کی راہ میں ریاست کا کمزور مالی موقف اہم رکاوٹ ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے ریاست کو مقروض بنادیا ہے اور موجودہ وسائل کے تحت حکومت اہم اور بنیادی وعدوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کررہی ہے تاکہ سرکاری خزانہ پر زائد بوجھ نہ پڑے۔ چیف منسٹر نے یقین دلایا کہ لوک سبھا کے انتخابی شیڈول کی اجرائی سے قبل مزید چند ضمانتوں پر عمل آوری شروع کردی جائے گی۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے فوری بعد لوک سبھا کے انتخابی شیڈول کی اجرائی کا امکان ہے۔ سنیل کونگلو کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی کرنا ہو شیڈول کی اجرائی سے قبل کیا جائے اور الیکشن کے بعد وعدوں پر عمل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضمانتوں پر عمل آوری کے بغیر لوک سبھا انتخابات کا سامنا کرنے کی صورت میں بی آر ایس اور بی جے پی کو کانگریس پر تنقید کیلئے اہم ہتھیار مل جائے گا۔ انہوں نے کرناٹک میں سدا رامیا حکومت کی جانب سے ضمانتوں پر عمل آوری کے طریقہ کار سے واقف کرایا اور کہا کہ الیکشن شیڈول سے قبل کم از کم غریب اور متوسط طبقات، کسانوں، دلتوں اور خواتین سے متعلق وعدوں پر عمل آوری کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے اسمبلی چناؤ کی طرح اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کی تائید میں مزید اضافہ پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔1