م2000مقدمات کیلئے ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کے صرف 2 وکیل

   

عہدیداروں کو جائیدادوں کے تحفظ سے دلچسپی نہیں، سنجیدہ وکلاء کی اچانک تبدیلی، وقف مافیا کے حق میں کارروائیاں
حیدرآباد۔/14 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے سلسلہ میں ایک طرف وقف مافیا ذمہ دار ہے تو دوسری طرف وقف بورڈکے حکام کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی اوقافی جائیدادوں سے محرومی کا سبب بن رہی ہے۔ عدالتوں میں 2800 سے زائد مقدمات زیر دوران ہیں جن میں کئی اہم جائیدادوں سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔ ہائی کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد تقریباً 2000 ہے اور وقف بورڈ کی جانب سے مقدمات میں کامیابی کا جائزہ لیں تو بہت کم مقدمات میں وقف بورڈ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ حالیہ عرصہ میں وقف بورڈ کے خلاف ہائی کورٹ کے بعض فیصلے آئے جو اہم اور قیمتی اوقافی جائیدادوں سے متعلق تھے۔ مقدمات میں ناکامی کی اہم وجہ کمزور اور ناقص پیروی ہے۔ ایک طرف عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرنے والے وقف بورڈ کے وکلاء کی تعداد انتہائی کم ہے تو دوسری طرف مقدمہ کے سلسلہ میں مواد کی فراہمی میں وقف بورڈ عہدیداروں کی عدم دلچسپی بارہا آشکار ہوچکی ہے۔ بورڈ کی جانب سے موثر نمائندگی کے دعوے اس لئے بھی مضحکہ خیز ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ہائی کورٹ کے2000 مقدمات کیلئے اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد صرف 2 ہے۔ اگر مقدمات تقسیم کئے جائیں تو ایک وکیل کو 1000 مقدمات آئیں گے۔ اسٹینڈنگ کونسلس کی فیس وقف بورڈ سے انتہائی کم ہے جس کے نتیجہ میں وکلاء مقدمہ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھاتے۔ حالیہ عرصہ میں دو اسٹینڈنگ کونسلس کی خدمات اچانک ختم کردی گئیں جبکہ ان دونوں کے بارے میں وکلاء برادری میں اچھی رائے پائی جاتی ہے۔ سابق میں ہائی کورٹ کے اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد چھ تا سات رہی لیکن اب گھٹ کر محض 2 ہوچکی ہے۔ بورڈ میں شامل بعض ارکان اور بورڈ سے وابستہ عہدیداروں کی ملی بھگت کے نتیجہ میں دیانتدار وکلاء کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ جو وکیل مقدمات کیلئے ریکارڈ طلب کریں یا اس سلسلہ میں عہدیداروں پر دباؤ بنائے انہیں کسی نہ کسی بہانے ہٹادیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقدمات میں کامیابی کی شرح انتہائی کم ہے۔ ان وکلاء کو برقرار رکھا جاتا ہے جو بعض ارکان اور عہدیداروں کی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وقف بورڈ میں عام طور پر یہ شکایت ہے کہ عہدیداروں کی جانب سے کیس سے متعلق دستاویزات فراہم نہیں کئے جاتے اور نہ ہی کاؤنٹر بروقت تیار کیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ میں مقدمات میں ناکامی کی وجوہات میں اسٹینڈنگ کونسلس کی غیر حاضری، کاؤنٹر داخل کرنے میں تاخیر اور موثر بحث کرنے میں تساہل شامل ہے۔ر

اگر حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہو تو اسے سینئر اور دیانتدار وکلاء کا تقرر کرنا چاہیئے جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا جذبہ رکھتے ہوں۔ وقف ٹریبونل میں اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد چار بتائی گئی ہے۔ وقف امور سے دلچسپی رکھنے والے سینئر وکلاء نے ہائی کورٹ میں مقدمات میں شکست کیلئے کمزور اور نااہل افراد کو پیروی کیلئے مقرر کرنے کو ذمہ دار قرار دیا۔ کئی ایسے معاملات بھی منظر عام پر آئے جس میں وقف بورڈ کے وکلاء نے مبینہ طور پر مخالف پارٹی سے معاملت کرلی۔ر