مائیننگ اسکام کا پردہ فاش ، 500 کروڑ کی لوٹ مار : داسوجو شراون

   

ریاستی وزیر بی سرینواس ریڈی کو کابینہ سے برطرف کرنے اور سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 5مئی ۔ ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے ریاستی وزیر بی سرینواس ریڈی کے غیرقانونی کانکنی میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کا انکشاف ہوجانے کے بعد اُنھیں فوری کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے حیڈرا کی کارکردگی اور مائیننگ مافیا کے ساتھ حکومت کی ملی بھگت پر سنگین سوالات اُٹھائے۔ ڈاکٹر داسوجو شراون نے کہاکہ حیڈرا نے صبح 9:15 بجے ریاستی وزیر یونگولیٹی سرینواس ریڈی کے رگھوا اسٹون کریشر کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ محض تین گھنٹے میں اپنے بیان سے کیوں مکر گیا؟ انھوں نے لزام عائد کیا کہ کمشنر حیڈرا رنگناتھ نے کسی بڑے سیاسی دباؤ پر جھوٹے دستخط کئے اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جس کی سزاء سات سال قید تک ہوسکتی ہے ۔ انھوں نے کلکٹر آر ڈی او ، تحصیلدار اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کے عہدیداروں پر بھی تنقید کی اور کہاکہ جب باہوبلی مشینوں کے ذریعہ سینکڑوں کروڑوں روپئے کے قدرتی وسائل لوٹے جارہے تھے تو یہ تمام عہدیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔ متعلقہ تمام عہدیداروں کے خلاف فوری فوجداری مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ڈاکٹر شراون نے یا د دلایا کہ بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے فبروری میں ہی منسا ہلز مائیننگ مافیا کی شکایت کی تھی لیکن حیڈرا نے 60 دن تک کوئی ایکشن نہیں لیا ۔ اب جبکہ کروڑہا روپئے کے اسٹون لوٹے جاچکے ہیں حیڈرا کا جاگنا گھر جلنے کے بعد واویلا مچانے کے برابر ہے ۔ انھوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طر ف ریاستی وزیر پی سرینواس دوسری طرف چیف منسٹر کریشر قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آؤٹر رنگ روڈ کے قریب غیرقانونی کانکنی کررہے ہیں ۔ داسوجو شراون نے دونوں قائدین کو ’’رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز‘‘ قرار دیا جو ملکر تلنگانہ کو لوٹ رہے ہیں ۔ انھوں نے مائیننگ اسکام اور حیڈرا کمشنر کے یوٹرن کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ لوٹی گئی 500 کروڑ روپئے کی دولت ملزمین سے برآمد کرتے ہوئے سرکاری خانے میں جمع کرائے ۔ لوٹ مار میں مدد کرنے والے عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کرنے پر زور دیا ۔ 2