آئندہ تین ہفتے سنگین، ڈائرکٹر سی سی ایم بی راکیش مشرا کے تاثرات
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر کے سنگین ہونے کی صورت میں تحقیقی ادارے سی سی ایم بی کے ڈائرکٹر راکیش مشرا نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے سماجی فاصلہ کافی نہیں بلکہ ماسک کا استعمال وائرس سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہجوم کے مقام پر کوئی شخص ماسک کا استعمال نہ کرے اور سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھیں تو اس کا شمار غیر سماجی افراد میں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو تین ہفتے کورونا کے پھیلاؤ کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ لہذا اس مدت میں ماسک اور سماجی فاصلہ کی برقراری کو ہر شخص اپنے لئے لازم کرلے۔ ڈاکٹر راکیش مشرا کا کہنا ہے کہ آئندہ تین ہفتے عوام کیلئے انتہائی چوکسی کے رہیں گے ۔ ہندوستان میں کورونا کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور موجودہ حالات میں ہر شخص کو اپنے طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری اگر کورونا قواعد پر سختی سے عمل کرے تو آئندہ تین ہفتوں میں ملک کی صورتحال کو بدلنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری لہر میں وائرس کے اثرات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ غیر علامتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری لہر میں جو نیا وائرس منظر عام پر آیا ہے ، وہ تیزی سے اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ ڈائرکٹر سی سی ایم بی کا کہنا ہے کہ ہر شخص اپنے طور پر احتیاط کے ذریعہ کورونا سے بآسانی بچ سکتا ہے۔ دواخانوں سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر نوجوانوں اور بچوں کیلئے زیادہ خطرناک ہوگی۔ کئی نوجوان اور کمسن بچے اس مرتبہ متاثر ہوئے ہیں جس کی اہم وجہ اسکول اور کالجس کی کشادگی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران یہ تمام گھروں میں محفوظ تھے لیکن اسکول اور کالجس کے آغاز کے بعد وہ وائرس کا شکار ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ ہر شخص کو کووڈ قواعد پر سختی سے عمل کرتے ہوئے کورونا کو شکست دینی چاہئے ۔ ڈائرکٹر سی سی ایم بی نے کہا کہ اگر ہم قواعد پر عمل کریں تو آئندہ تین ہفتے میں صورتحال قابو میں آسکتی ہے۔