حیدرآباد ۔ 22 اپریل (سیاست نیوز) مہاراشٹرا کے مالیگاؤں ۔ 2006ء بم دھماکہ کے چار ملزمین کے ناموں کو بمبئی ہائیکورٹ نے ملزمین کی فہرست سے خارج کردیا۔ چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس شام سری چندر نے اپنے فیصلہ میں بتایا کہ 30 ستمبر 2025ء کو اسپیشل کورٹ میں مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے چار ملزمین منوہر نرواریا، راجندر چودھری، دھن سنگھ اور لوکیش شرما جو تاریخی مکہ مسجد میں پیش آئے بم دھماکہ کیس کا ملزم تھا، کو انسداد غیرسرگرمیاں (یو اے پی اے) ایکٹ اور تعزیرات ہند کے دفعات کے تحت عائد کئے گئے الزامات سے انہیں خارج کردیا۔ 8 ستمبر سال 2006ء میں مالیگاؤں میں مسجد اور قبرستان کے قریب طاقتور بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 31 افراد ہلاک اور 312 افراد زخمی ہوگئے تھے اور اس کیس میں مہاراشٹرا کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے 9 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا بعدازاں سال 2007ء میں اس کیس کی تحقیقات کو سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کیا گیا تھا لیکن 4 سال بعد کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے حاصل کرنے کے بعد ہندو بنیاد پرست دہشت گرد تنظیم ابھینئے بھارت کے ارکان اس دھماکہ کے پس پردہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ملزمین بشمول سوامی اسیمانند کو گرفتار کیا تھا۔ اس کیس کا ایک ملزم لوکیش شرما حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں 18 مئی سال 2007ء کو پیش آئے بم دھماکہ کیس کا ملزم تھا اور سال 2018ء میں اسے حیدرآباد میٹرو پولیٹن کریمنل کورٹ کی عدالت نے اسے بری کردیا تھا۔ بمبئی ہائیکورٹ نے لوکیش شرما اور دیگر ملزمین کو 19 سال کے طویل عرصہ کے بعد اس کیس سے خارج کیا۔ واضح رہیکہ این آئی اے نے دہشت گرد تنظیم ابھینئے بھارت کے سرگرم رکن سوامی اسیمانند کے سال 2010ء میں عدالت میں دیئے گئے اقبالی بیان کی بنیاد پر کیس بنایا تھا لیکن اسیمانند نے مکہ مسجد، اجمیر شریف دھماکہ اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کیس کی تحقیقات کے دوران اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں بمبئی ہائیکورٹ نے این آئی اے کے استدلال کو غلط قرار دیا۔ واضح رہیکہ گزشتہ سال این آئی اے کی خصوصی عدالت نے مالیگاؤں دھماکہ۔2008ء کیس کے کلیدی ملزمین بشمول بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹننٹ کرنل سریکانت پرساد پروہت کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔ بH/m/b