مانسون سیشن میں 23 نئے بل پیش کئے جائیں گے

   

نئی دہلی: حکومت نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پیش کرنے کیلئے 23 نئے بل تیار رکھے ہیں جن میں 11ایسے ہیں جو آرڈیننس کی جگہ لیں گے۔ یہ سیشن پیر کو شروع ہوگا۔ حکومت جن آرڈیننس کو منظورکرانے کا منصوبہ رکھتی ہے ان میں ایک بل وہ ہے جس کا تعلق شعبہ صحت سے وابستہ اسٹاف پر تشدد کے خلاف اقدامات کی گنجائش فراہم کرنا ہے۔ یہ سیشن 18 روز طویل ہوگا۔ نگہداشت صحت سے جڑے اسٹاف کے خلاف تشدد اور ہراسانی کی کئی شکایات سامنے آئی ہے جن میں کوویڈ۔19 کی موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت کی تجویز ہیکہ ایسی حرکت کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے اور اس کیلئے 7 سال کی اعظم ترین سزاء اور 5 لاکھ روپئے کا جرمانہ رکھا جائے۔ اس سے ڈاکٹرس، نرسیس اور آشا ورکرس کے بشمول ہیلتھ کیئر کمیونٹی کا تحفظ ہوگا۔ ایک اور بل جو آرڈیننس کی جگہ لے گا، وہ یکم ؍ اپریل 2020ء سے ایک سالہ مدت کیلئے ایم پیز کی تنخواہ میں 30 فیصد کٹوتی کرنا ہے۔ یہ رقم کوروناوائرس کے خلاف لڑائی میں صرف کی جائے گی۔ کسانوں کی بھلائی سے متعلق بھی ایک بل پیش کیا جائے گا۔ دیگر بلز میں جموں و کشمیر میں سرکاری زبان سے متعلق قانون سازی شامل ہے۔ اس بل کے مطابق کشمیری، ڈوگری اور ہندی موجودہ اردو اور انگریزی کے علاوہ مرکزی علاقے کی سرکاری زبانیں متصور کی جائیں گی۔ اس سے مرکزی علاقہ میں سرکاری کام کاج کیلئے ان تمام زبانوں میں سے کسی کا استعمال کرنے کی گنجائش فراہم ہوگی۔ لوک سبھا بلیٹن کے مطابق ایوان زیریں سال 2020-21ء کیلئے ضمنی مطالبات زر کے پہلے بیاچ پر مباحث اور رائے دہی ہوگی۔