ماں کی نعش کیساتھ بچوں کا باپ کے مکان پر 3 دن احتجاج

   

آندھراپردیش میں انوکھا واقعہ‘آخری رسومات انجام دینے کا مطالبہ

حیدرآباد۔18 اکتوبر (یواین آئی) آندھراپردیش میں پیش آئے ایک عجیب وغریب واقعہ میں ماں کی موت پر بیٹا اور بیٹیوں نے باپ کے ہاتھوں ماں کی آخری رسومات ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعش کے ساتھ تین دنوں تک احتجاج کیا۔تفصیلات کے مطابق آندھراپردیش کے گنٹور ضلع کے وٹی موکا، پونور منڈل سے تعلق رکھنے والی پشپاوتی (48) کی شادی 25 سال قبل، باپٹلہ ضلع کے کوٹیشور راؤ سے ہوئی تھی۔ اس جوڑے کو دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ۔ بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے ، بیٹا مانی، یومیہ مزدور ہے ۔ بچوں کی پیدائش کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے جس پر پشپاوتی اسی گاؤں کے دوسرے گھر میں الگ رہنے لگی۔ بعد ازاں وہ چار سال پہلے اپنے مائیکے وٹی مکلائی گاوں منتقل ہوگئی۔حال ہی میں گنٹور کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ اس کا شوہر کوٹیشور راؤ پشپاوتی کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے آگے نہیں آیا، تینوں بچوں نے اپنی ماں کی نعش کے ساتھ اپنے والد کے گھر کے سامنے تین دن تک احتجاج کیا تاہم کوٹیشور راؤ نے ان کی بات نہیں مانی۔ چنڈور پولیس نے تحصیلدار کنکا درگا سے ملاقات کی۔ انہوں نے اس بارے میں کوٹیشور راؤ سے بات کی جس پر اس نے آخری رسومات انجام دینے کا وعدہ کیا۔ کوٹیشور راؤ کے رشتہ داروں کا الزام ہے کہ بچے جائیداد کی خاطر ایسا کر رہے ہیں۔