مبینہ ایران نواز ہیکروں کا اسرائیل پر سائبر حملہ

   

بیروت۔ دفاع، مالیات اور متعدد دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی درجنوں اسرائیلی کمپنیوں پر جمعرات کے روز سائبر حملے کیے گئے۔ مائیکرو سافٹ کمپنی نے ان حملوں کے پیچھے لبنان میں سرگرم ایک ایرانی حمایت یافتہ گروپ پر شک کا اظہار کیا ہے۔ امریکی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ ایرانی حکومت سے تعلق رکھنے والے اور لبنان میں موجود ایک گروپ پولونیم نے اسرائیل میں کام کرنے والی 20 تنظیموں اور اداروں کے علاوہ لبنان میں متحرک ایک تنظیم کو بھی سائبر حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ مائیکرو سافٹ نے تاہم دعویٰ کیا کہ اس نے سائبر حملوں کا سراغ لگا کر انہیں ناکارہ بنا دیا ہے۔ مائیکروسافٹ نے ایک بیان میں کہا کہ جن اسرائیلی کمپنیوں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ان میں دفاع اورمالیاتی کے علاوہ دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے لبنان سے سرگرم پولونیم نامی ایک گروپ کا ہاتھ ہے جس کے ایران کی وزارت برائے انٹیلیجنس اور سکیورٹی سے قریبی روابط ہیں۔ مائیکرو سافٹ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ایران اور ہیکروں کے درمیان روابط کا سلسلہ سن 2020 سے جاری ہے۔ اس کے تحت حکومت ایران خود کارروائی کرنے کے بجائے کسی تیسرے فریق کو اس طرح کے سائبر حملوں کی ذمہ داری سونپ دیتی ہے۔ تاکہ تہران سائبر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو آسانی سے مسترد کرسکے۔ کمپنی نے کہا کہ پولونیم نے ماضی میں بھی ایران کی وزارت انٹیلیجنس اور سکیورٹی کی ایما اور تعاون سے مختلف تنظیموں پر سائبرحملے کیے تھے۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں اسرائیل کی نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ نے سائبر سیکوریٹی کو مضبوط کرنے کے مقصد سے وزارت مواصلات کے ساتھ ایک مشترکہ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ وہ دفاعی سکیورٹی کی طرح ہی سائبر کی دنیا میں بھی آئرن ڈوم قائم کرسکے۔