lملک میں.5 3ہزارامریکی فوجیوں کی موجودگی پرسوالیہ نشان: ڈاکٹرعبدالخالق عبداللہ
lیو اے ای کے بعد سعودی عرب بھی بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے
lایرانی حملوں سے سعودی عرب‘کویت ‘بحرین‘قطر‘اردن اور یو اے ای کو بھاری نقصان
دبئی۔21؍اپریل ( ایجنسیز) متحدہ عرب امارات یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے استاد پروفیسرڈاکٹرعبدالخالق عبداللہ نے ملک میں تعینات ساڑھے 3ہزارامریکی فوجیوں کی موجودگی اورافادیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ یواے ای کو اب اپنے دفاع کیلئے امریکہ کی ضرورت نہیں رہی۔ ایکس پر پوسٹ میں انہوں نے ’’روئٹر‘‘کو دیے گئے انٹرویو کا خلاصہ شیئرکرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حملوں میں امریکی یواے ای کودفاع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ امارات میں موجود امریکی فوجی اڈاے کی میزبانی سے معذرت کرلی جائے۔پروفیسرعبداللہ نے مزید لکھا کہ ایران جنگ میں امریکی فوجی اڈہ اسٹریٹجک اثاثہ کی بجائے بوجھ ثابت ہوا ہے،ہمیں اگر امریکہ سے کچھ چاہیے تو وہ اس کے جدید ہتھیار ہیں جو واشنگٹن سے خریدے جاسکتے ہیں۔ دریں اثناء امریکی جریدے نے اماراتی یونیورسٹی کے پروفیسرکے انٹرویو کو اماراتی حکام کی جانب سے واشنگٹن کے لیے کھلا پیغام قراردیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اماراتی حکام سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے ان کے دفاع کیلئے یواے ای کی توقعات کے مطابق اقدامات نہیں کیے اور عرب اتحادیو ں پر اسرائیل کے دفاع کو ترجیح دی۔جریدے کا کہنا ہے کہ اماراتی پروفیسر کے انٹرویو کو یواے ای حکومت کا پیغام سمجھا جارہا ہے۔متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب بھی بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے۔جی سی سی کے2بڑے رکن ممالک کے چین کی جانب جھکاؤ کے بعد کویت‘بحرین اور قطرجیسے ممالک بھی چین کی جانب دیکھ رہے۔ ایران جنگ کے بعد خطے میں آنے والی تبدیلوں میں روس اور چین کی جانب مڈل ایسٹ کا روس اور چین کی جانب جھکاؤ فطری ہے۔ایک طرف امریکہ ان کے دیرینہ حریف ایران کی فوجی طاقت کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے تو دوسری جانب جنگ کے دوران ایران نے جی سی سی ممالک میں دہائیوں سے قائم امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ عرب ملکوں کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے اور امریکہ ’’انٹرسپٹرز‘‘کیلئے انہیں مطلوبہ تعدادمیں میزائل بھی فراہم نہیں کرسکا جس کی وجہ سے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے سعودی عرب‘کویت ‘بحرین‘قطر‘اردن اور متحدہ عرب امارات کی حساس تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچے ہیں، خصوصا یواے ای کو بڑے پیمانے پر ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔امریکی جریدے کا کہنا ہے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے امریکی بالادستی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور مڈل ایسٹ میں واشنگٹن کی گرفت کمزورہورہی ہے اور اسرائیل کی ہرمعاملے میں حمایت کی پالیسی سے ٹرمپ انتظامیہ کو پے درپے جھٹکوں کا سامنا ہے۔ادھر امریکی ماہرعالمی امور اور شکاگویونیورسٹی میں پو لیٹیکل سائنس کے پروفیسرجان مرشائمر نے سنیئرصحافی اور مصنف کرس ہیجزسے گفتگو کے دوران کہا کہ ٹرمپ اپنے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے ظاہرکرنا چاہتے ہیں کہ وہ الجھن کا شکار ہیں۔انہوں نے امریکی صدرکو جنگ کے دنیا پر اثرات کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے دباؤ میں آکرعالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک خودمختارملک پر بلاجوازحملہ کیاجس کے بعد آبنائے ہرمزکی بندش اور تیل ‘گیس سمیت عالمی تجارت میں خلل آنے سے پوری دنیا میں معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدرٹرمپ کو یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھی ‘جنگ کے بعد کئی مواقع آئے جب ٹرمپ یکطرفہ ’’فتح‘‘ کا اعلان کرکے جنگ سے نکل سکتے تھے تاہم نیتن یاہو کے زیراثرہونے کی وجہ سے وہ بروقت اور درست فیصلے لینے کے قابل نظرنہیں آئے۔