نشیبی علاقوں کی فصلیں تباہ، کہیں کسانوں میں مسرت تو کہیں مایوسی
نظام آباد :حالیہ دنوں سے جاری بارش کے باعث متحد ہ ضلع میں چھوٹے و متوسط آبپاشی کے تالاب لبریز ہونے کے علاوہ متحدہ ضلع کے سری رام ساگر ، نظام ساگر کے علاوہ دیگر چھوٹے و متوسط آبپاشی کے پراجیکٹس لبریز ہوکر بہہ رہے ہیں ۔ نظام ساگر پراجیکٹ لبریز ہونے کے باعث اس کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور مانجرا سے پانی کے بہائو میں اضافہ کے باعث مانجرا ندی تیزی کے ساتھ بہہ رہی ہے اور بودھن کے سالورہ کے حدود میں واقع بریج کو عبور کرتے ہوئے پانی بہہ رہا ہے اور کئی سالوں کے بعد یہ منظر عوام کو دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ ضلع نظام آباد میں میں جملہ 1202 چھوٹے متوسط تالاب ہے اور 75 فیصد تالاب لبریز ہوچکے ہیں یعنی 898 تالاب لبریز ہوچکے ہیں اور جاریہ سال منڈلوں میں زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے بالخصوص ضلع کے سرکنڈہ ، رنجل ، نوی پیٹ ، بودھن ، ویلپور منڈلوں میں عام بارش سے بھی 20 فیصد بارش ریکارڈ کی گئی ہے اور بارش کے باعث خریف کی فصل کے بھی امکانات روشن ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کسانوں میں مسرت پائی جارہی ہے ۔ ایک ماہ کے دوران سری رام ساگر پراجیکٹ کی سطح آب دو مرتبہ مکمل ہونے کی وجہ سے دو مرتبہ دروازے کھولتے ہوئے نچلے حصہ کو پانی چھوڑا گیا تھا اور گذشتہ 4 سال کے بعد نظا م ساگر پراجیکٹ کی سطح آب 17 ٹی ایم سی ہے اور 17ٹی ایم سی پانی پہنچنے کے بعد دو دن سے دروازے کھولتے ہوئے پانی چھوڑ دیا جارہا ہے اور نظام ساگر پراجیکٹ کے دروازے کھولنے کی وجہ سے نچلے حصہ میں واقع دیہات کی فصلیں بھی متاثر ہوئی ہے اور چند دیہاتوں کے فصلوں میں پانی پہنچ کر ڈوب گئے ہیں ۔ نظام ساگر منڈل کے گردی دیہات سے ہوتے ہوئے یہ پانی گذرتا ہے اور پانی سڑک سے ہوتے ہوئے گذرنے کی وجہ سے نظام ساگر اور گردی کے درمیان آمد و رفت بند ہوچکی ہے ۔کاماریڈی ضلع میں ہوئی اطمینان بخش بارش کی وجہ سے کسان مسرت کا اظہار کررہے ہیں ۔ جبکہ کاماریڈی ضلع کے نظام ساگر ، پٹلم کے منڈلوں میں بارش کسانوں کیلئے زحمت بھی ثابت ہورہی ہے اور کاماریڈی ضلع میں نظام ساگر پراجکٹ کے تحت 2لاکھ 8 ہزار آیاکٹ ہے اور دوسری فصل کو پانی علی ساگر ، گتپہ تک سیراب کیا جائیگااور سری رام ساگر پراجکٹ کے لکشمی کنال ، گتپہ علی ساگر تک بھی یہ پانی سیراب کیا جاسکتا ہے ۔