متحدہ نظام آباد میں شدید گرمی کی لہر ، درجہ حرارت خطرناک

   

معمولات زندگی متاثر ، اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ، لُو لگنے کے کئی واقعات

l مزدور طبقہ سب سے زیادہ پریشان l بعض علاقوں میں ہلکی بارش سے معمولی راحت

نظام آباد۔19مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) متحدہ نظام آباد ضلع میں شدید گرمی اور لُو کی لہر نے عوام کو بری طرح متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ ریاست بھر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ضلع نظام آباد کے کوٹگیری میں 45.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کاماریڈی ضلع کے بچکندا میں 45.5 ڈگری سیلسیس درج ہوا۔ شدید دھوپ، گرم ہواؤں اور بڑھتی ہوئی حبس کے باعث معمولات زندگی متاثر ہورہے ہیں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد شدید بے چینی کا شکار ہیں۔ ضلع میں اب تک کئی افراد لُو لگنے کے سبب اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں جبکہ ماہرین طب نے آئندہ چند دن مزید شدید گرمی برقرار رہنے کی امکان ظاہر کیا اور عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔اس سیزن کے آغاز سے ہی درجہ حرارت مسلسل خطرناک سطح کو چھو رہا ہے۔ مینڈورا میں دو مرتبہ 46 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جبکہ ڈچپلی منڈل کے کورٹ پلی میں 45.9 اور بھیمگل میں 45.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب بعض علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش بھی ہوئی، تاہم اس سے گرمی کی شدت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ شدید گرمی کا سب سے زیادہ اثر ضمانت روزگار اسکیم کے تحت کام کرنے والے مزدوروں، تعمیراتی کارکنوں، زرعی منڈیوں کے حمالوں اور سڑک کنارے کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجروں پر پڑ رہا ہے۔ ضلع بھر میں روزانہ تقریباً 34 ہزار مزدور کھلے آسمان تلے کام کررہے ہیں جہاں سایہ، ٹھنڈے پانی اور ابتدائی طبی امداد جیسی بنیادی سہولتوں کی شدید قلت پائی جارہی ہے۔ مزدوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حاضری کے اندراج میں تاخیر نہ کی جائے اور صبح 10 بجے تک انہیں گھروں کو واپس بھیج دیا جائے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث جسم تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک، دل کا دورہ اور برین اسٹروک جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اسپتالوں میں لُو، اسہال اور پانی کی کمی سے متاثر مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں نے بزرگوں، خواتین، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو دوپہر کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے، زیادہ پانی پینے، او آر ایس استعمال کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں اور عوام کو شدید گرمی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔