مجالس مقامی میں بی سی تحفظات کو قطعیت، جی او کی عنقریب اجرائی

   

29 ستمبر کو الیکشن شیڈول کا امکان، قانونی کشاکش سے بچنے کیلئے حکومت کی تیاری
حیدرآباد ۔ 25 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں مجالس مقامی انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ۔ حکومت نے 42 فیصد بی سی تحفظات کو قطعیت دے دی ہے اور توقع ہے کہ اندرون دو یوم تحفظات سے متعلق جی او جاری کردیا جائے گا ۔ حکومت نے ضلع کلکٹرس کو تحفظات کے تعین کی ذمہ داری دی تھی اور کلکٹرس نے اپنی رپورٹ حکومت کو روانہ کردی ہے ۔ ضلع پریشد صدورنشین ، زیڈ پی ٹی سی ، ایم پی ٹی سی ، وارڈ ممبرس اور سرپنچ کے عہدوں پر پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں ۔ حکومت نے ابتداء میں صدر جمہوریہ کی جانب سے تحفظات بل کی منظوری تک انتظار کا فیصلہ کیا تھا لیکن ہائی کورٹ کے احکامات کے پیش نظر اکتوبر انتخابات منعقد کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی جو بہار کے بعد ٹاملناڈو کے دورہ پر ہیں، ان کی واپسی کے بعد تحفظات جی او کو قطعیت دی جائے گی اور توقع ہے کہ جمعہ کو جی او جاری کردیا جائے گا ۔ جی او کی اجرائی کے بعد نوٹیفکیشن کا مرحلہ رہے گا جس کے بعد اسٹیٹ الیکشن کمیشن توقع ہے کہ 29 ستمبر کو الیکشن شیڈول جاری کرے گا ۔ ضلع کلکٹرس نے انتخابی عملہ کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے دو مراحل میں رائے دہی کی سفارش کی ہے ۔ پولنگ مراکز کے تعین کے علاوہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے فہرست رائے دہندگان کو قطعیت دینے کا کام شروع کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کی اجرائی سے قبل حلقہ جات کی سطح پر فہرست رائے دہندگان جاری کردی جائے گی ۔ واضح رہے کہ تحفظات کے سلسلہ میں حکومت نے دو مرتبہ اسمبلی میں بلز کی منظوری دی لیکن گورنر نے صدر جمہوریہ کو رجوع کردیا۔ جی او کی اجرائی کے ذریعہ تحفظات کی فراہمی میں حکومت کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ تحفظات کو قطعیت دیئے جانے سے پہلے ہی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی جسے کل ہائی کورٹ نے مسترد کردیا ۔ جی او کی اجرائی کے بعد دیگر طبقات کی جانب سے ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا امکان ہے ۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ محض اخباری اطلاعات کی بنیاد پر پٹیشن کی سماعت نہیں ہوگی بلکہ حکومت کے احکامات کو چیلنج کرنے پر سماعت کی جاسکتی ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو مجالس مقامی چناؤ کے لئے 30 ستمبر کی مہلت دی ہے اور حکومت اکتوبر میں انتخابات کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جی او کی اجرائی سے قبل حکومت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کیویئٹ پٹیشن دائر کرسکتی ہے تاکہ عدلیہ میں تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کے موقف کی سماعت کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ 1