عوام کے اعتماد کی برقراری، کسانوں کی خوشحالی ہماری ذمہ داری، جلسہ عام سے خطاب، 1435 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح
٭٭ کوڑنگل میں صنعتی زون کے قیام سے 25 ہزار ملازمتیں فراہم ہوں گی
٭٭ متاثرہ کسانوں کو فی ایکر 20 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا تیقن
٭٭ گجویل میں ایک ہزار ایکر پر کے سی آر کا فارم ہاؤز تو پھر لگچرلہ میں انڈسٹریل کے لئے 1300 ایکر اراضی کیوں نہیں؟
٭٭ دھوکہ بازوں اور چالبازوں کی باتوں میں نہ آنے کی خواہش
محبوب نگر۔ یکم؍دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ کسانوں کی زندگیوں میں خوشیاں اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا خواب مکمل ہوچکا ہے۔ صرف ایک سال میں 54 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرکے آج ہم کسانوں کو مطمئن و مسرور دیکھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کیا۔ وہ ہفتہ کی شام محبوب نگر میں ایک زبردست جلسہ عام کو مخاطب کررہے تھے۔ واضح رہے کہ کسان میلہ کے اختتام پر جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم انتخابی وعدوں کی تکمیل کی سمت مسلسل پیش قدمی کررہے ہیں۔ ایک سال قبل عوام اور کسانوں نے ان کو اقتدار تھما دیا تھا۔ ان کا اعتماد برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کسانوں کے لئے کئے گئے فلاحی اقدامات کا تذکرہ بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ محبوب نگر کا پرانا نقشہ بدلنے کا ارادہ کرچکے ہیں۔ اگر اس کے لئے لاکھوں کروڑ روپئے کیوں نہ خرچ کرنا پڑے۔ انھوں نے بی آر ایس کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا کہ 10 سال کا عرصہ کافی طویل ہے۔ پالمور پروجکٹ کیوں مکمل نہیں ہوا۔ کے سی آر محبوب نگر پروجکٹس کو فنڈ دینے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہے۔ انھوں نے ضلع کو گود لینے کی بات کہی تھی۔ پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا کہ ہمارے ضلع کا ہر بچہ سی ایم ہے اور ہم محبوب نگر کو ترقی نہ دے سکے تو ہمیں تاریخ بھی معاف نہیں کرے گی۔ میں ایک کسان خاندان کا بیٹا ہوں۔ کسانوں کی مشکلیں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ بی آر ایس حکومت نے 11 ہزار کروڑ روپئے کسانوں کے قرض کی معافی کے لئے مختص کرنے کا اعلان کیا، جس میں سے 8 ہزار کروڑ روپئے کا غلط استعمال ہوا۔ انھوںن ے کوڑنگل اراضی کے حصول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1300 ایکر اراضی کا حصول عوامی مفاد میں تھا، ہمارے ذاتی فائدے کے لئے نہیں۔ انھوں نے متاثر ہونے والے کسانوں کو فی ایکر 20 لاکھ معاوضہ کا تیقن دیا۔ صنعتی زون قائم کرنے کا وعدہ کیا جس سے 25 ہزار ملازمتوں کی فراہمی کا موقع ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آپ دھوکہ بازوں اور چالبازوں کی باتوں میں نہ آئیں جو ترقیاتی و صنعتی قیام پر نچلی سیاست کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں کی خوشحالی ہماری ذمہ داری ہے۔ انھوں نے اپنے دورۂ محبوب نگر میں تقریباً 1435 کروڑ روپئے کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور کئی کاموں کا افتتاح بھی کیا۔ تقریباً 45 کروڑ روپئے کے صرفہ سے تعمیر کئے جانے والے جدید اُردو گھر، اقلیتی شادی خانہ، قبرستان کی کمپاؤنڈ وال کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم کوڑنگل، نارائن پیٹ پروجکٹ کی تکمیل میں کامیاب ہوجائیں گے تو اس خطہ سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا اور بڑے پیمانے پر روزگار فراہم ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ اب تک ہمارے ضلع کیس اتھ جو سوتیلا سلوک ہوا تھا، اس کو ختم کرکے اس کو ایک ماڈل ضلع بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کے سی آر کا گجویل میں ایک ہزار ایکر پر مشتمل فارم ہاؤز ہے تو لگچرلہ میں انڈسٹریل کے لئے 1300 ایکڑ اراضی کیوں نہیں لی جاسکتی؟ جلسہ عام سے نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرامارکا نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، پی سرینواس ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، ٹی ناگیشور راؤ، سیتااکا، پونم پربھاکر، جوپلی کرشنا راؤ، دامودر راج نرسمہا، ناگر کرنول ایم پی ملو روی، مقامی ایم ایل اے سیم سرینواس ریڈی، دیورکدرہ ایم ایل اے جی مدھوسدن ریڈی، جڑچرلہ ایم ایل اے انیرودھ ریڈی، متحدہ ضلع کے ایم ایل ایز، سینئر قائدین پی وینکٹیش ایڈوکیٹ، کارپوریشنس کے چیرمینس، چیف سکریٹری شانتی کماری و دیگر عہدیداران کے علاوہ متحدہ ضلع کے کانگریسی قائدین و کارکن بڑی تعداد میں شامل تھے۔ چیف منسٹر کے جلسہ عام میں حدنظر تک انسانی سروں کا سمندر نظر آرہا تھا۔ اس جلسہ عام کی کامیابی کے لئے انتظامیہ تقریباً ایک ہفتہ سے مصروف تھا۔